آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امارات کثیرالقومی اتحاد کی کوشش کر رہا ہے، فنانشل ٹائمز

آبنائے ہرمز کی کشیدگی اور بین الاقوامی اتحاد

ابو ظہبی (ڈیلی پاکستان آن لائن) خلیج میں جاری کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک بڑے بین الاقوامی اقدام کی شکل بنتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں متحدہ عرب امارات نے اپنے اتحادیوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ایک کثیرالقومی بحری اتحاد میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق ابوظہبی نہ صرف اس اتحاد کا حصہ بننا چاہتا ہے بلکہ اپنی بحریہ بھی تعینات کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک میں جہاز رانی کو بحال کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب واقعی اتنا خوشحال صوبہ ہے تو 51 لاکھ غریب خاندان کیوں ہیں؟ مزمل اسلم

خلیجی ممالک کی صورتحال

رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک اور مغربی طاقتیں اس وقت شدید دباؤ میں ہیں کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حملوں کے باعث آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں تقریباً ٹھپ ہو چکی ہیں۔ اندازہ ہے کہ جہازوں کی آمدورفت میں تقریباً 90 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے، کیونکہ دنیا کے قریباً پانچویں حصے کا تیل اور گیس اسی راستے سے گزرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف و مریم نواز کی ہدایات پر ایاز صادق کے حلقے کے لیے 35 ارب کے خصوصی فنڈز منظور

ہارمز سیکیورٹی فورس کا قیام

ابوظہبی اس وقت ایک وسیع بین الاقوامی اتحاد کے قیام کے لیے سرگرم لابنگ کر رہا ہے، جس کا مقصد تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا اور انہیں محفوظ راستہ دینا ہے۔ اس منصوبے کو غیر رسمی طور پر “ہارمز سیکیورٹی فورس” کا نام دیا جا رہا ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایران کے خلاف جنگ نہیں بلکہ عالمی معیشت کو لاحق خطرے کا مقابلہ کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کی سب سے وزنی بلی انتقال کر گئی

اقوام متحدہ میں قرارداد

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات اس معاملے پر بحرین کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد بھی لانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اس مجوزہ فورس کو عالمی قانونی جواز فراہم کیا جا سکے۔ تاہم روس اور چین کی ممکنہ مخالفت اس منصوبے کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہم فلسطینیوں کی مدد جاری رکھیں گے: وزیراعظم اسرائیل کی ظلم کے خلاف

ایران کا اثر و رسوخ

خلیجی ممالک میں اس بات پر بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ ایران جنگ کے بعد بھی آبنائے ہرمز پر اپنا دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے بعض جہازوں کو اپنے نیم فوجی ادارے کے ذریعے اجازت لینے اور بعض صورتوں میں محفوظ گزر کے لیے ادائیگی کرنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا ہے، جو اس کے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں شامل

امریکی حکومت کی تشویش

امریکی حکومت بھی اس صورتحال کی سنگینی کو تسلیم کر چکی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق وہ اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کہ کس طرح تیل بردار جہازوں کو دوبارہ محفوظ طریقے سے اس گزرگاہ سے گزارا جا سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی ٹائم لائن سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کا ’’نیا وار‘‘ ۔۔۔ فیٹف میں علی امین گنڈاپور کا بیان پاکستان کے خلاف بطور ثبوت جمع کروا دیا

خلیجی ممالک کا متضاد رویہ

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس معاملے پر خلیجی ممالک کے اندر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ جہاں متحدہ عرب امارات اور بحرین کھل کر اس اقدام کی حمایت کر رہے ہیں، وہیں دیگر ممالک محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ کچھ ریاستیں ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت سے ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کی توقع رکھتی ہیں، تو دوسری جانب انہیں خدشہ ہے کہ اگر امریکہ پیچھے ہٹ گیا تو خطے میں ایک زیادہ سخت گیر ایرانی پالیسی جنم لے سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہم امریکہ سے مذاکرات نہیں کریں گے’ لاریجانی کا اعلان

سفارتی کوششیں

اسی دوران دیگر سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ فرانس نے تقریباً 35 ممالک سے رابطہ کیا ہے تاکہ جنگ کے بعد ایک دفاعی مشن تشکیل دیا جا سکے، جس میں بارودی سرنگوں کی صفائی اور تجارتی جہازوں کی حفاظت شامل ہو۔ دوسری طرف عمان نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔

خلاصہ

مجموعی طور پر صورتحال اس جانب اشارہ کر رہی ہے کہ آبنائے ہرمز اب صرف ایک جغرافیائی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان معاشی اور اسٹریٹجک کشمکش کا مرکز بن چکی ہے، جہاں ہر قدم آنے والے دنوں میں عالمی معیشت اور خطے کے امن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

Categories: عرب دنیا

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...