روس کی جانب سے بھارت کو چوتھے ایس-400 میزائل سسٹم کی فراہمی کی تیاریاں، پاکستان کے ساتھ مغربی سرحد پر تعیناتی کا منصوبہ
ایس-400 ٹرایئمف نظام کی روس سے فراہمی
نئی دہلی/ماسکو(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کو روس کی جانب سے چوتھے ایس-400 ٹرایئمف (S-400 Triumf) فضائی دفاعی نظام کی فراہمی کے لیے حتمی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ سسٹم جو روس یوکرین جنگ کی وجہ سے تقریباً تین سال تاخیر کا شکار تھا اب اپنی آزمائش کے آخری مراحل میں ہے اور رواں سال کی دوسری سہ ماہی (مئی یا جون) تک بھارت پہنچ جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں کا قصور نہیں
معاہدہ اور تعیناتی
دی پرنٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے روس کے ساتھ 5 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت کل پانچ سسٹم آرڈر کیے تھے جن میں سے تین سسٹم خاص طور پر پاکستان کے ساتھ لگنے والی مغربی سرحد پر تعینات کیے جائیں گے۔ ماہرین کے مطابق ان تین سسٹمز کی تعیناتی کے بعد پاکستان کی جانب سے کسی بھی فضائی خطرے کے خلاف بھارت کا دفاعی حصار مکمل ہو جائے گا اور پاکستانی فضائی حدود کی گہرائی تک ہر طیارے کو نشانہ بنانا ممکن ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: مؤثر ٹک ٹاکر رومیسا سعید ٹریفک حادثہ کے بعد انتقال کر گئیں
آپریشن سندور کی کامیابی
بھارتی دفاعی ذرائع کے مطابق حالیہ "آپریشن سندور" کے دوران ایس-400 سسٹم نے بہترین کارکردگی دکھائی اور پاکستانی طیاروں بشمول جے0 (J0) کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ تاہم، اس وقت دو سسٹمز کے درمیان ایک معمولی فاصلہ (Gap) موجود تھا، جسے اب تیسرے سسٹم کی تعیناتی سے پُر کر دیا جائے گا۔
مستقبل کے منصوبے
بھارت نہ صرف اپنے بقیہ دو سسٹمز کی وصولی کا منتظر ہے بلکہ وہ مزید پانچ نئے ایس-400 سسٹمز کا آرڈر دینے پر بھی غور کر رہا ہے۔ یہ سسٹمز بھارت کے اپنے مقامی دفاعی منصوبے 'پراجیکٹ کشا' کے ساتھ مل کر ملکی فضائی حدود کو ڈرونز، جدید ترین لڑاکا طیاروں اور میزائلوں کے خلاف ناقابلِ تسخیر بنا دیں گے۔








