ایوب خاں، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے صدارتی ادوار میں اقتصادی لحاظ اور فارن ریلیشنز میں پاکستان جمہوری ادوار کی نسبت زیادہ مستحکم اور آگے تھا
مصنف کی معلومات
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 348
یہ بھی پڑھیں: انتقامی کارروائیاں عروج پر ہیں مگر ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، علی امین گنڈا پور
دستورِ پاکستان 1973ء
دستورِ پاکستان 1973ء اور ہمارا پارلیمانی نظام انگریز کے دئیے ہوئے 1935 ایکٹ انڈیا کے مطابق پارلیمانی طرز پر بنایا گیا ہے۔ جس کے بارے میں قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ نے سرسید احمد خاں مسلم یونیورسٹی کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے 1941ء میں کہا تھاکہ برٹش پارلیمانی نظام کو اختیار کرنا نہ انڈیا کے مفاد میں ہوگا اور نہ ہی پاکستان کے لئے، جہاں ہم اپنا صدارتی نظامِ حکومت پر مبنی دستور بنائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کا ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ
قائد اعظم کی رائے
جولائی 1947ء میں انڈیا میں برٹش وائسرائے ماؤنٹ بیٹن سے انڈیا، پاکستان کی Dominion States کے بارے میں قائد اعظم کی گفتگو ہوئی۔ قائد اعظم کے اس ریکارڈ سے ان کے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے رف پیڈ پر درج ذیل نوٹس بھی ملے ہیں:
مستقبل میں پاکستان کا آئین
- پارلیمانی طرزِ حکومت خطرناک ہے۔ اس طرز حکومت نے سوائے انگلستان کے کسی دوسرے ملک میں اطمینان بخش کارکردگی نہ دکھائی ہے۔
- صدارتی نظام حکومت پاکستان کے لیے سب نظاموں سے زیادہ موزوں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی، بھارت کرکٹ ٹیم کے کپتان روہت شرما کا رد عمل سامنے آگیا
صدارتی طرزِ حکومت کا ذکر
قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ نے فروری 1948ء میں 'سبی دربار' سے خطاب کرتے ہوئے بھی صدارتی طرزِ حکومت کی طرف اشارہ کیا۔ ایک امریکن مصنف ایلن میگراتھ نے اپنی کتاب 'Introduction of Democracy in Pakistan' میں بھی قائد اعظم کے مذکورہ بالا حقائق / اقتباسات بحق صدارتی طرزِ حکومت کو کتاب کا حصہ بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم شہباز شریف نے بلاول بھٹو کو حکومت پنجاب سے متعلق تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرادی
پاکستان کے قرضوں کا جائزہ
پاکستان میں گزشتہ 74 سالوں میں 4 فوجی حکمرانوں نے صدارتی طرزِ حکومت کے مطابق 32 سال حکومت کی ہے جبکہ سیاستدانوں کی نام نہاد پارلیمانی جمہوری حکومتیں 45 سال حکمران رہی ہیں۔ پاکستان میں صدارتی اور پارلیمانی ادوار کی ترقی کا جائزہ لیا جائے تو ہمارے سامنے کھل کر یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے صدارتی ادوار میں اقتصادی لحاظ سے اور فارن ریلیشنز میں پاکستان ہمارے جمہوری ادوار کی نسبت زیادہ مستحکم اور آگے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا ڈرون ناکارہ بنانے کا دعویٰ
بیرونی قرضوں کی تفصیلات
غیر ملکی قرضے لینے کے ضمن میں بھی صدارتی ادوار میں کم قرضے لیے گئے جس کا خاکہ درج ذیل ہے:
- ایوب خان کے 1969 ء میں اقتدار چھوڑتے وقت پاکستان کے ذمے کل قرضہ ساڑھے تین ارب ڈالر تھا۔
- ضیاء الحق کا اقتدار 1987 ء میں اس کی ہوائی حادثے میں شہادت کے ساتھ ختم ہوا تو 20 سال بعد پاکستان کے ذمے کل قرضہ 16 ارب ڈالر واجب الادا تھا۔
- بے نظیر اور نواز شریف کے 12 سالہ جمہوری ادوار میں یہ قرضہ بڑھ کر 1999 ء میں 35 ارب ڈالر دوگنا سے بھی زائد ہو گیا۔
- جنرل پرویز مشرف کے 8 سالہ صدارتی دور 2007999 ء تک یہ قرضہ 5 ارب مزید بڑھ کر 40 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔
- اگلے 10 سالہ زرداری اور نواز شریف ادوار میں 2008 ء تا 2018 ء صرف 10 سالوں میں دوگنا سے بھی زائد 90 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔
- آج 2024 ء میں عمران خان اور پی ڈی ایم اور شہباز شریف کے جمہوری ادوار میں پاکستان کے ذمہ غیر ملکی قرضہ بڑھ کر 134 ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








