رقبوں کی چھان بین کے لیے جا رہے تھے کہ آگے ٹرک کھڑا دکھائی دیا، قریب پہنچے تو سڑک کی طرف سے دو تین آدمی دوڑے چلے آئے اور رُکنے کا اشارہ کیا۔
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 99
یہ بھی پڑھیں: حیدرآباد: ڈاکٹرز کی لاپرواہی، زندہ نومولود بچی کو مردہ کہہ کر والدین کے حوالے کردیا
ساہیوال کا سوئل سروے
ساہیوال کے گردو نواح کے علاقہ میں ہم "سوئل سروے" کر رہے تھے۔ ایک دن حسب ِ معمول ساہیوال شہر کے شمال مغرب میں زرعی رقبوں کی چھان بین کے لیے اپنی جیپ میں جا رہے تھے کہ آگے ایک جگہ ایک ٹرک کھڑا دکھائی دیا۔ قریب پہنچے تو سڑک کی طرف سے دو تین آدمی ہماری طرف دوڑے چلے آئے اور ہمیں رُکنے کا اشارہ کیا۔ پتہ چلا کہ ٹرک میں ایک لاش ہے جو تدفین کے لیے اُن کے گاؤں لے جا رہے ہیں۔ لیکن شومئے قسمت یہاں تھوڑی سی ریتلی سڑک پر آکر ٹرنک اندر دھنس گیا ہے۔ بڑی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔
اگر آپ مہربانی کریں اور جیپ کے آگے لپٹے آہنی رسّوں کی مدد سے ٹرک باہر نکلوا دیں تو بڑی نوازش ہوگی۔ تاکہ میّت کو جلد از جلد اُن کے گاؤں پہنچایا جائے اور اُس کی تدفین کا عمل مکمل ہو۔ کوئی پتھر دل ہی ہوگا جو اِس صورت حال میں بھی مدد کے لیے آمادہ نہ ہوگا۔ ہم نے فوراً اپنی جیب سے اُس کا منہ اُس ٹرک کے آگے کر کے رسّہ کھولا اور ٹرک کے ساتھ باندھ دیا۔ ٹرک تو سٹارٹ تھا ہی جیپ کو بھی سٹارٹ کر کے پچھلی جانب کھینچنا شروع کردیا۔ ٹرک اُس جگہ سے سرک آیا لیکن ٹرک ڈرائیور نے ہوشمندی کا مظاہرہ نہ کیا۔ اور ٹرک کو اور آگے کرتا رہا۔
چنانچہ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ٹرک کی ٹکڑ سے جیپ کا انجن اندر دھنس گیا اور کھیل ختم ہوگیا۔ ٹرک تو نکل گیا لیکن جیپ کو ناکارہ کر گیا۔ یہ ٹرک ساہیوال کی ایک بسّوں، ٹرکوں کی کمپنی کا تھا۔ جن کی ساہیوال میں ایک بڑی ورکشاپ تھی۔ چنانچہ وہ پھر خود ہی جیپ کو ورکشاپ میں لے گئے اور اُسے مرمتّ کردیا۔ 3 دن بعد ہم آکر اپنی جیپ چالو حالت میں لے آئے。
ہڑپہ
یہ 1960ء مارچ کا مہینہ تھا۔ جب میں ساہیوال ایریا میں سوئل سروے کی ڈیوٹی پر مامور تھا۔ محکمہ نہر کے ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرا ہوا تھا۔ ایک دن ہڑپہ کی ورق گردانی کا خیال جو آیا تو اپنی بیگم اور بچوں کو لے کر وہاں بنے انتظامیہ کے دفتر سے ٹکٹ اور ہڑپہ کی 2 صفحات پر مشتمل گائیڈ لائن لے کر آئے اور ہڑپہ کی کھدائی سے جانکاری کے لیے نیچے اُتر گئے۔ بچے تو دوڑ دھوپ میں لگے رہے اور ہم ہر گھر ہر گلی کا مشاہدہ کرتے گذرتے گئے اور اِس بستی کے باسیوں کی آخری ہچکیوں کی آواز کے اثرات محسوس کرتے آبدبدہ سے ہوگئے۔
ہڑپہ تہذیب کے مقامات دریائے سندھ اور سُرسوتی ندیوں اور اُن کی معاون ندیوں کے ساتھ واقع ہیں۔ اُس وقت لوگ مٹی کی اینٹوں، جَلی ہوئی اینٹوں اور پتھر کے بنے دروازوں اور قلعہ بندیوں کی دیواروں گھروں میں منصوبہ بندی کر کے برادریوں میں رہتے تھے۔ دریائے سندھ کی وادی میں ایک شاندار تہذیب تخلیق کی جو بر اعظم ایشیاء میں ایک طویل عبوری دریا ہے جو چین، ہندوستان اور پاکستان تینوں ممالک کا مشترک دریا ہے۔ اِس کی مٹی زرخیز اور زرعی پیداوار کے لیے موزوں ہے۔
ہڑپہ 2500 قبل مسیح کے قریب تعمیر کیا گیا۔ اس جگہ کو اچھی طرح سے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ ہڑپہ تہذیب کے کھنڈرات میں ماہرینِ آثار قدیمہ نہ وادی سندھ کی قدیم ترین تحریروں کے نشانات اور علامتیں دریافت کیں۔ جو وہاں سے ملی مُہروں پر کُندہ ہیں۔ جس جانور کی کثرت سے نمائندگی کی گئی وہ بیل نما جانور ہے اور اُس کا ایک ہی سینگ ہے۔ اِس کے علاوہ اور بھی بہت سے جانوروں کی نمائندگی کی گئی ہے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








