میں ہمیشہ سے ہی کسی کا دیر تک انتظار نہیں کر سکتا تھا، ”ملاقات رہنی چاہیے“۔۔۔یہ ملاقات آدھی ملاقات کی صورت آج بھی ٹیلی فون پر ہو جاتی ہے.
مصنف کی تفصیلات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 480
ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب:
یہ بھی پڑھیں: امید ہے 27ویں آئینی ترمیم تھوڑے بہت رد و بدل اور ایڈجسٹمنٹ کے ساتھ منظور کر لی جائے گی، مجیب الرحمان شامی
تبادلے کے بعد کی ملاقاتیں
میرے تبادلے کے کچھ عرصے بعد وہ بھی گوجرانوالہ سے ٹرانسفر ہو کر ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب تعینات ہوئے۔ اس دوران 2 بار ان سے ملاقات ہوئی۔ پہلی بار وہ کسی میٹنگ میں تھے۔ میں ہمیشہ سے ہی کسی کا دیر تک انتظار نہیں کر سکتا تھا۔ کچھ دیر بعد ان کے پی اے شاہد (میری تب اس سے تب سے شناسا ئی تھی جب یہ سیکرٹری بلدیات کے پی ایس ہوا کرتے تھے) سے کہا; "میرا بتا دینا" اور دفتر سے نکلا ہی تھا کہ وہ سامنے سے آتے دکھائی دئیے۔ ان کے ساتھ کچھ اور افسران بھی تھے۔ مجھے دیکھ کر ان سے بولے؛ "یار! میرا پرانا کولیگ آیا ہے۔ ہم دونوں گوجرانوالہ اکٹھے تھے۔ آپ سے بعد میں ملاقات ہوتی ہے۔" میرا ہاتھ پکڑا اور دفتر چلے آئے۔ چائے پلائی اور کہنے لگے؛ "کیسے آنا ہوا۔" میں نے جواب دیا؛ "سر! صرف آپ سے ملنے آیا ہوں۔" کچھ دیر گپ کرکے اجازت چاہی تو بولے؛ "ملاقات رہنی چاہیے۔" یہ ملاقات آدھی ملاقات کی صورت آج بھی ٹیلی فون پر ہو جاتی ہے۔ دوسری بار شہباز چیمہ یعنی مرشد کی پروموشن کی سفارش کرنے گیا تھا۔ پنجاب سے وہ وفاق میں بطور سیکرٹری واٹر اینڈ پاور چلے گئے اور وہیں سے ریٹائرڈ ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی امپورٹرکو چونا لگانے والا پاکستانی تاجر گرفتار
گوجرانوالہ میں تجربات
میں ستمبر 2013ء تا مئی 2015 گوجرانوالہ پوسٹڈ رہا تھا۔ بھرپور وقت گزارا۔ پوسٹنگ انجوائے کی۔ میں نے زندگی میں 2 پوسٹنگ کی خواہش اپنے اللہ سے کی تھی۔ ایک ڈائریکٹر اکیڈمی لالہ موسیٰ اور دوسری ڈائریکٹر لاہور۔ اللہ نے میری پہلی خواہش پوری کر دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: آرمی چیف کا پاک فضائیہ کے آپریشنل بیس کا دورہ، کثیرالملکی مشق انڈس شیلڈ کا مشاہدہ
ویلج ایڈ کی اہمیت
لالہ موسیٰ میرا دوسرا گھر تھا کہ میں نے اپنی سروس کے ابتدائی 12 سال لالہ موسیٰ اور کھاریاں گزارے تھے۔ بہت سے مقامی لوگوں سے میری شناسائی تھی۔ یہاں میری اب دوسری بار تعیناتی ہوئی تھی۔ پہلی بار بحیثیت فیلڈ افسر اور اب اپنی خوابوں کی پوسٹنگ یعنی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ اکیڈمی۔ مقامی حکومت کی یہ تربیت گاہ دراصل ویلج ایڈ کے نام سے زیادہ جانی جاتی ہے۔ یہی لوکل گورنمنٹ اکیڈمی لالہ موسیٰ کا پرانا نام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کنٹرول رومز قائم، شہری بلا خوف و خطر حق رائے دہی استعمال کریں: الیکشن کمشنر پنجاب
ویلج ایڈ پروگرام کا آغاز
ویلج ایڈ ایک شاندار پروگرام تھا جو 1952ء میں مغربی پاکستان میں "دیہات سدھار" کی تحریک کے طورپر شروع ہوا اور مقامی زراعت، دستکاریوں کی ترقی اور مقامی لوگوں کے مسائل مقامی وسائل سے حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی پروگرام سے ملتا جلتا پروگرام جنرل پارک نے کوریا میں 15سال بعد سیموئل انڈونگ نئی دیہات تحریک کے نام سے متعارف کروایا تھا جس نے وہاں کی شہری اور دیہاتی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ویرات کوہلی بڑی مصیبت میں پھنس گئے
تاریخی عمارت اور تربیت
ویلج ایڈ پروگرام کو سکھانے، چلانے، تربیت اور عمل درآمد کرنے کے لئے یہ اکیڈمی ابتدائی طور پر خوشاب میں شروع کی گئی تھی۔ 1954ء میں لالہ موسیٰ شفٹ ہوئی اور اکتالیس (41) ایکٹر زمین 4 مقامی کاشتکاروں نے عطیہ کی۔ ویلج ایڈ عمارت کا سنگ بنیاد اس دور کے وزیر تعلیم چوہدری علی اکبر کی موجودگی میں انہی 4 کاشتکاروں نے رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی یونین اور بھارت کے درمیان فری ٹریڈ ڈیل اور دفاعی معاہدے کے اہم نکات سامنے آ گئے
پاکستان کی بلدیاتی تاریخ میں کردار
اس شاندار تاریخی عمارت کا پاکستان کی بلدیاتی تاریخ میں بڑا اہم کردار رہا ہے۔ دیہات سدھار کے کارکن جو ویلج ایڈ ورکر کہلاتے تھے یہاں ایک سال کی تربیت کے لئے آتے۔ ان کی سلیکشن بھی ایک لمبا اور کٹھن مرحلہ سے گزر کر خالصتاً اہلیت کی بنیاد پر ہوتی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اٹلی کے بعد 5 دیگر یورپی ممالک کا بھی پاکستانیوں کو نوکریاں دینے پر اتفاق، انسانی سمگلنگ کی روک تھام پر زبردست خراج تحسین
تربیت کا اثر
اس تربیت سے نکلنے والے افراد "من کے سچے، دھن کے پکے اور کام کے ہر فن مولا" ہوتے۔ دیہات زندگی کا کوئی ایسا کام نہ تھا جس کی انہیں آگاہی اور تربیت نہ ہو۔ خواہ وہ زراعت کا شعبہ ہو یا گھریلو صنعت، دستکاریاں ہوں یا کاٹیج انڈسٹری، کابانوں اور تعمیرات، یہ کارکن ہر ہنر میں ماہر ہوتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین کی امداد حضور ﷺ کی تعلیمات پر عملداری کا عملی نمونہ ہے: سہیل شوکت بٹ
حتمی نوٹ
ویلج ایڈ پروگرام بنا کسی وجہ بند کر دیا گیا اور اس کی جگہ 1961ء میں بنیادی جمہوریت (basic democracy) کا نظام متعارف کرایا گیا تھا۔ بہر حال اس قدیم تربیت گاہ اور پاکستان کی سب سے بڑی لوکل گورنمنٹ اکیڈمی کا سربراہ مقرر ہونا بے شک بڑے اعزاز کی بات تھی。
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








