ایران جنگ کے بعد سے روس اس وقت تیل اور گیس کی فروخت سے یومیہ تقریباً 760 ملین ڈالر کما رہا ہے، برطانوی اخبار کی رپورٹ
فوری جنگ کے اثرات
ماسکو/کیف (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز نے جہاں دنیا بھر کو معاشی بحران میں ڈال دیا ہے، وہیں روس اس صورتحال میں ایک غیر متوقع فاتح بن کر ابھرا ہے۔ برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق، روس اس وقت تیل اور گیس کی فروخت سے یومیہ تقریباً 760 ملین ڈالر کما رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں سپلائی کی کمی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی اور دیگر کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں چالان کا قانونی عمل مکمل
یوکرینی ڈرونز کا حملہ
بدھ کے روز یوکرین کے ڈرونز نے روسی سرحدوں کے اندر 620 میل کا فاصلہ طے کرتے ہوئے روس کی اہم ترین اوست لوگا (Ust-Luga) بندرگاہ اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس حملے کے نتیجے میں لگنے والی آگ کے شعلے فن لینڈ سے بھی دیکھے جا سکتے تھے اور اس نے روس کے دفاعی نظام کی قلعی کھول دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازم پر تشدد کا کیس، سعید غنی کے بھائی فرحان غنی کے جسمانی ریمانڈ میں 3 روز کی توسیع
معاشی مشکلات اور حکومتی اقدامات
فروری میں ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے روس کی آمدنی میں 47 فیصد کمی آچکی تھی لیکن اب صرف مارچ کے مہینے میں روس نے 24 ارب ڈالر کما لیے ہیں۔ یوکرینی حملوں اور پائپ لائنز کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے رواں ہفتے روس کی تیل برآمد کرنے کی صلاحیت میں 40 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ معاشی دباؤ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صدر ولادیمیر پیوٹن نے گزشتہ جمعرات کو روسی ارب پتیوں (Oligarchs) کے ساتھ ایک بند کمرہ اجلاس کیا جس میں انہوں نے دفاعی بجٹ کے لیے عطیات مانگے۔
توانائی کے بحران کے اثرات
یوکرین کو خدشہ ہے کہ توانائی کے بحران کی وجہ سے مغربی ممالک روس کے ساتھ تعلقات نارمل کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ حال ہی میں بیلجیئم کے وزیر اعظم نے "سستی توانائی" کے حصول کے لیے روس کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو "عقل مندی" قرار دیا تھا۔ اسی خطرے کو بھانپتے ہوئے یوکرین نے روس کے توانائی کے ڈھانچے پر حملے تیز کر دیے ہیں تاکہ ماسکو کو ملنے والے اربوں ڈالر کے فنڈز روکے جا سکیں۔








