برداشت، حسن سلوک، فرض شناسی اور دیانتداری عنقا ہوتے جا رہے ہیں، اعلیٰ کارکردگی اور ملکی تعمیر میں مثبت کردار کی توقع رکھنا عبث ہے۔
مصنف کا تعارف
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 349
یہ بھی پڑھیں: جعلی ویزوں کے دھندے میں ملوث مافیا کے خلاف موثر کریک ڈاؤن کا حکم
غیر ملکی قرضوں سے نجات
آج بیرونِ ملک قرضوں کی ادائیگی کے لیے ہمارے پاس ڈالرز نہیں ہیں کیونکہ ہمارے حکمرانوں اور اشرافیائی طبقات نے ڈالرز بیرونِ ملک منتقل کیے ہیں اور جائیدادیں خریدی ہیں۔ جبکہ قوم کو ہر دم دیوالیہ ہونے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ اسی لیے آج ہمارے حکمران مزید قرضے حاصل ہونے پر خوشیوں کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے شبِ برات کے موقع پر (بدھ 4 فروری کو) صوبے بھر میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا
قرضوں کی تباہ کاری
مذکورہ بالا اعداد و شمار سے یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ سیاستدانوں کی جمہوری حکومتوں نے بھاری قرضے لے کر ضائع بھی کیے ہیں اور ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔ نتیجتاً مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام الناس کی زندگی اجیرن بنائی ہوئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اور ہمارے حکمران قرضوں پر انحصار کرنے کی روش کو ترک کرتے ہوئے اپنی قومی آمدنی کے مطابق حکومتی اخراجات اور بجٹ کو ترتیب دیں۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی: غیر ملکی فوڈ چین کی برانچ پر حملہ کرنے والے 3 ملزمان گرفتار
پاکستان کے مسائل کا جڑ
(12)پاکستان کے تمام تر مسائل کی جڑ کردار کی کمی اور ہمارا اخلاقی انحطاط
دنیا کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ اخلاق و کردار کی حامل اقوام تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔ ساتویں صدی عیسوی میں اسلام کے ظہور کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اخلاقی تربیت حاصل کرنے اور قرآن کی تعلیم سے فیضیاب ہو کر مسلمان آگے بڑھتے گئے اور انہوں نے سپین، یورپ سے لیکر ہندوستان، ملائیشیاء تک 3 براعظموں میں ایک ہزار سال تک حکومت کی۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے کی کارروائی، انسانی سمگلرزسمیت چارایجنٹ گرفتار
اخلاقی انحطاط کی وجوہات
بعدازاں فرقہ بندی میں تقسیم اور دنیاوی و قرآنی تعلیم و تربیت سے دور ہونے کے باعث اخلاقی انحطاط میں مبتلا ہوئے اور مسلمان دنیا بھر میں کمزور اور محکوم ہوتے گئے۔ پاکستان کے قیام کے بعد ہم پہلے 22 سال 1968ء تک پورے جنوب مشرقی ایشیاء کے ممالک چین، کوریا، ملائیشیاء، انڈیا اور سری لنکا سے اقتصادی ترقی کی دوڑ میں سب سے آگے تھے۔ ہمارا روپیہ ان تمام ممالک کی کرنسی سے مضبوط تر تھا۔
یہ بھی پڑھیں: فنگر پرنٹس میں دشواری کا مسئلہ ختم، نادرا نے چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیقی سہولت کا آغازکردیا
تعلیمی معیار کی تنزلی
1960 ء کے عشرے تک ہماری یونیورسٹیوں، میڈیکل کالجوں اور دیگر میں عرب ملکوں، افریقی و ایشیائی ملکوں کے طلباء اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے پاکستان آتے تھے اور گورنمنٹ کالج لاہور میں بھی ہمارے ساتھ زیر تعلیم تھے۔ اخلاق و کردار کے اعتبار سے بھی ہماری قوم کے افراد آج کی نسبت کہیں بہتر تھے۔ دفاتر میں، عدالتوں میں بددیانت، رشوت لینے والے افسر و اہلکار ڈھونڈے سے خال خال ملتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: اٹلی کے کپتان انجری کے باعث سکاٹ لینڈ کے خلاف میچ سے باہر
موجودہ صورت حال
1970 ء کے بعد آہستہ آہستہ اور 1980 ء کے بعد بڑی تیزی سے ہماری قوم اخلاق و کردار کے اعتبار سے پستی کی گہرائیوں میں گرتی نظر آئی۔ رشوت کا چلن عام ہوتا گیا۔ کسی بھی دفتر میں رشوت کے بغیر جائز کام کروانا بھی مشکل تر ہو گیا۔ ایک عام ریڑھی بان سے لیکر آڑھتی تک، دکاندار سے لیکر کارخانے دار تک ایک سیاسی کارکن سے لیکر ممبران اسمبلی اور وزیر اعلیٰ تک، صوبائی سیکرٹریٹ سے لیکر سنٹرل سیکرٹریٹ، وزارتوں، ڈویژنوں میں الا ماشا اللہ ہر کوئی 'مال بناؤ' پالیسی پر گامزن ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب: فصلوں کی باقیات جلانے والے 17 افراد گرفتار، لاکھوں کے جرمانے، 234 گاڑیوں کے چالان ، 72 بند
معاشرتی مسائل
ملک میں کوئی سانحہ ہو، حادثہ ہو یا کوئی وبا، حکمران اور عام لوگ ہر موقعہ پر مال بنانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ ایسے میں تاجر اور دیگر افراد ذخیرہ اندوزی سے چور بازاری تک، اوزان و پیمائش میں ڈنڈی مارنے سے لیکر ملاوٹ تک، مکرو فریب سے لیکر حق مارنے تک، لوٹ کھسوٹ سے لیکر مار دھاڑ تک جیسی بدعنوانیوں اور بداخلاقیوں میں شریک ہیں۔
نتیجہ
اس طرح ہر فرد ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی بجائے مشکلات و مسائل میں اضافہ کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ باہمی اخلاص و محبت، رواداری، برداشت، ہمدردی، حسن سلوک، فرض شناسی اور دیانتداری عنقا ہوتے جا رہے ہیں جس سے اعلیٰ کارکردگی اور ملکی تعمیر میں مثبت کردار ادا کرنے کی توقع رکھنا عبث ہے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب 'بک ہوم' نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








