تجارتی جہاز یمن کے علاقائی پانیوں میں داخل ہونے سے گریز کریں، یورپی یونین
یورپی یونین کی بحری سیکیورٹی کی تنبیہ
ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن) یورپی یونین کے بحری سیکیورٹی ادارے نے عالمی جہاز رانی کے لیے ایک سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام تجارتی جہاز فوری طور پر یمن کے علاقائی پانیوں میں داخل ہونے سے گریز کریں، کیونکہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغی دوبارہ حملے شروع کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کے علاقوں کو انتہائی خطرناک قرار دیا گیا ہے، جہاں کسی بھی وقت صورتحال بگڑ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا بڑا سائبر اٹیک، اہم بھارتی سائٹس اور ہزاروں سرویلنس کیمرے ہیک
بڑھتی ہوئی کشیدگی
یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی گروہ نے ہفتے کے روز اسرائیل پر میزائل حملے کیے اور مزید کارروائیوں کی دھمکی بھی دی۔ اس پیش رفت نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے اثرات عالمی تجارتی راستوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بِٹ کوائن مائننگ اور اے آئی کو بجلی فراہمی پر آئی ایم ایف کا اظہار تشویش، حکومت سے وضاحت طلب
حوثیوں کی خطرناک صلاحیت
یمن کے شمال مغربی علاقوں پر کنٹرول رکھنے والے حوثیوں نے ابھی تک اپنی سب سے خطرناک صلاحیت استعمال نہیں کی، جو کہ باب المندب کی اہم گزرگاہ کو بند کرنا ہے۔ یہ تنگ سمندری راستہ بحیرۂ احمر کو عالمی تجارتی روٹس سے جوڑتا ہے، اور یہاں کسی بھی رکاوٹ سے بین الاقوامی تجارت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک سال میں بینکوں کے ڈپازٹس 3685 ارب روپے بڑھے گئے
خصوصی ہدایتیں
یورپی یونین کے بحری مشن “Aspides” کے مطابق وہ تجارتی جہاز جو امریکہ یا اسرائیل سے منسلک ہیں، انہیں خاص طور پر یمنی پانیوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے جب تک خطرہ کم نہیں ہو جاتا۔ رپورٹ میں اسرائیلی مفادات سے جڑے جہازوں کے لیے خطرے کی سطح کو “ہائی” جبکہ دیگر جہازوں کے لیے “میڈیم” قرار دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی تشویش
یاد رہے کہ حوثی باغیوں نے نومبر 2023 سے بحیرۂ احمر میں جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا، جسے وہ فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی قرار دیتے ہیں۔ اب ایک بار پھر ان کی ممکنہ کارروائیوں نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی شدید تنازعات کی لپیٹ میں ہے۔








