پاکستان کے ساتھ تنازعے کی صورت میں آپ کا ساتھ نہیں دیں گے، اپنے قومی مفاد میں فیصلہ کریں گے، امریکہ نے بھارت کو پیغام دے دیا
امریکی عہدیداروں کا واضح پیغام
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی حکام کے مطابق حالیہ ہفتوں میں اعلیٰ امریکی عہدیداروں اور سفارتکاروں نے مختلف ملاقاتوں اور سفارتی رابطوں کے دوران یہ واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کسی ممکنہ بحران کی صورت میں امریکہ خودکار طور پر بھارت کا ساتھ نہیں دے گا، بلکہ اس کے فیصلے مکمل طور پر اپنے قومی مفادات کے مطابق ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: شاہین انکلیو کے سردار عبدالقیوم کڑلال، سردار یاسر کڑلال اور خواجہ دلاور کے اعزاز میں نہال مرزا بیگ اور ہارون عالم کا جدہ میں شاندار عشائیہ
امریکہ کی بھارت کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری
بھارتی اخبار دی سنڈے گارڈین لائیو کے مطابق اس بات چیت سے یہ تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے کہ اگرچہ امریکہ بھارت کو بالخصوص انڈو پیسیفک خطے میں ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے، تاہم کسی بھی تنازع میں غیر مشروط حمایت یا کھلی چھوٹ کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔ واشنگٹن میں بڑھتی ہوئی “اسٹریٹجک حقیقت پسندی” اس سوچ کی عکاسی کرتی ہے، جہاں امریکی پالیسی ساز “قواعد پر مبنی عالمی نظام” کو ایک مبہم تصور قرار دیتے ہوئے واضح کر رہے ہیں کہ اسے سخت قومی مفادات پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: بی پی ایل: کھلاڑیوں نے میچ کا بائیکاٹ کردیا، ٹیمیں ٹاس کیلئے بھی نہ آسکیں
خارجہ پالیسی میں تبدیلی
امریکی مؤقف کے مطابق اب خارجہ پالیسی میں “اخلاقی وابستگی” کے بجائے “مسئلہ بنیاد تعاون” کو ترجیح دی جا رہی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ مخصوص معاملات میں تعاون کرے گا، لیکن کسی باضابطہ اتحادی کی طرح سکیورٹی ضمانت فراہم نہیں کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: لانگ مارچ کا معاملہ، وزیر مملکت طلال چوہدری کی منصورہ آمد، جماعت اسلامی سے کیا کچھ طے پایا؟ اہم تفصیلات سامنے آگئیں
امریکہ کے ورکنگ تعلقات
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی نمائندوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ ورکنگ تعلقات رکھتا ہے اور کسی بھی کشیدگی کی صورت میں اس کی اولین ترجیح خطے میں استحکام برقرار رکھنا اور حالات کو مزید بگڑنے سے روکنا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹا مجھے کھیلتا دیکھنا چاہتا ہے، احمد شہزاد پی ایس ایل میں سلیکٹ نہ ہونے پر رو پڑے
ساؤتھ ایشیا میں کشیدگی کا کنٹرول
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کا یہ مؤقف دراصل جنوبی ایشیا میں کشیدگی کو کنٹرول کرنے کی ایک مستقل پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت وہ فریق بننے کے بجائے ثالثی اور توازن برقرار رکھنے کو ترجیح دیتا ہے۔
بھارت کی توقعات کا جواب
بھارتی حکام کے مطابق واشنگٹن نے اپنے الفاظ اور اقدامات دونوں سے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر بھارت یہ توقع رکھتا ہے کہ کسی دوطرفہ بحران میں امریکہ پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کر دے گا تو یہ امید پوری نہیں ہوگی۔








