ڈھیمے انداز میں کہا: “اچھا نہیں لگتا آپ جیسا ‘معزز’ یوں باہر کھڑا ہو کر بات کرے، اندر آئیں بیٹھ کر مہذب لوگوں کی طرح بات کرتے ہیں”

واقعہ کا آغاز

مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 482
میرے دفتر میں ایک گمنام شخص داخل ہو کر صوفہ پر بیٹھ گیا۔ میں نے پوچھا تو کہنے لگا؛ "میں نائب تحصیل دار ہوں۔" میں نے پوچھا؛ "کس کی اجازت سے دفتر میں آئے ہو اور تمھارا کیا کام ہے یہاں؟" بولا؛ "اے سی صاحبہ نے بھیجا ہے کہ کمشنر آ رہے ہیں۔" میں نے اسے فوری طور پر کیمپس چھوڑنے کا کہا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے ڈبلیو ٹی او کی چودھویں وزارتی کانفرنس میں حاصل ہونیوالی پیش رفت پر تفصیلات شیئر کر دیں

اے سی کا فون

تھوڑے ہی دیر میں اے سی کھاریاں افشاں رباب کا فون آ گیا (وہ یہاں آنے سے پہلے اے سی کامونکی تھیں جبکہ میں ڈائریکٹر گوجرانوالہ تھا۔ مجھے جانتی تھیں) کہنے لگی؛ "آپ نے میرے تحصیل دار کو دفتر سے نکال دیا۔" میں نے ان کی سرزنش کرتے کہا؛ "آپ کو قائدہ قانون کا علم ہونا چاہیے کہ میرے کیمپس میں میری اجازت کے بغیر کوئی بھی میٹنگ نہیں رکھی جا سکتی۔ آپ نے کیسے سوچ لیا کہ جو آپ کہیں گی ویسا ہی ہو جائے گا۔ Don't cross your limits۔" میری گفتگو ان کے لئے جھٹکا ہی ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ میں بورڈ آف پیس ممالک کے ہزاروں فوجی اہلکار تعینات ہوں گے، ٹرمپ کا بڑا اعلان

ڈی سی او کا فون

فون بند ہوا تو لیاقت چٹھہ ڈی سی او گجرات کا فون آیا۔ ان سے شناسائی تب سے تھی جب وہ کچھ عرصہ بطور پراجیکٹ منیجر میرے جونئیر کولیگ رہے تھے۔ وہ بھی لالہ موسیٰ اکیڈمی میں رکھی میٹنگ کے بارے بات کر رہے تھے۔ انہیں بھی کچھ اس سے ملتا جلتا ہی جواب دیا۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں منکی پاکس کا ایک اور کیس سامنے آگیا

وزیر موصوف کی آمد

میں اپنے کولیگز سے بات ہی کر رہا تھا کہ پورچ میں شور سا اٹھا۔ ملک اسحاق اور قمر دیکھنے باہر نکلے تو اسحاق نے آ کر بتایا "سر! جعفر اقبال صاحب آ ئے ہیں اور اونچا بول رہے ہیں۔" میں باہر گیا۔ وزیر موصوف مجھے دیکھ کر کہنے لگے؛ "اچھا آپ ڈائریکٹر ہیں سنا ہے آپ کسی اے سی ڈی سی کو نہیں مانتے تو میں کون ہوا۔" میں نے دھیمے انداز میں کہا؛ "اچھا نہیں لگتا آپ جیسا 'معزز' یوں باہر کھڑا ہو کر بات کرے، اندر آئیں بیٹھ کر مہذب لوگوں کی طرح بات کرتے ہیں۔" وہ نائب تحصیل دار کے باہر نکالے جانے کو اپنی انا کا مسئلہ بنائے ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی طیاروں رافیل کی مقبوضہ کشمیر میں پٹرولنگ، پاک فضائیہ کی فوری نشاندہی اور وارننگ نے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا

بات چیت کی صورت حال

خیر میرے اصرار پر دفتر آ گئے۔ میں نے انہیں عزت سے صوفہ پر بٹھایا اور خود بھی بجائے اپنی کرسی پر بیٹھنے کے ان کے ساتھ ہی صوفہ پر بیٹھ گیا۔ انہیں ساری صورت حال سے آگاہ کیا۔ بات ان کی سمجھ میں آئی۔ کہنے لگے؛ "سکول کے لئے تو میں یہاں ہی جگہ لوں گا۔ سی ایم سے ڈائریکٹو ایشو کروا لوں گا۔" میں نے جواب دیا؛ "سر! سی ایم صاحب صوبے کے مالک ہیں میری طرف سے یہ ساری جگہ آپ کو دے دیں مجھے کیا اعتراض لیکن اصل صورت حال سے کمشنر کو آگاہ کرنا میرا فرض ہے۔"

یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

اب کی صورت حال بہتر ہوئی

میں نے انہیں یاد دہانی کراتے کہا؛ "سر! میں وہی شہزاد ہوں جس سے آپ کی ملاقات بطور ڈائریکٹر مقامی حکومت گوجرانوالہ ہو چکی ہے اور میں آپ کو تب سے جانتا ہوں جب آپ ناروے تھے۔" اب ان کا غصہ کچھ کم ہو چکا تھا۔ انہیں چائے پلائی اتنے میں کمشنر کے آنے کی اطلاع ملی۔

یہ بھی پڑھیں: میرا مقصد سینیٹر بننا نہیں بلکہ اشرافیہ کا تکبر پاش پاش کرنا تھا: سینیٹ نشست دستبردار ہونے سے انکاری پی ٹی آئی رہنما خرم ذیشان کا پیغام

کمشنر کی آمد

میں دفتر سے باہر آیا تو ان کی گاڑی پہنچ چکی تھی۔ مجھے دیکھ کر وہ پورچ میں ہی گاڑی سے اتر گئے۔ سلام دعا کے بعد مجھے ساتھ لیا اور میٹنگ روم کی طرف چل پڑے۔ کہنے لگے؛ "یار! تمھارا کیمپس تو شاندار ہے۔ صاف ستھرا اور پرسکون۔ شہزاد! یہ سب کیا کہانی ہے?" میں نے انہیں ساری صورت حال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ "سر! ہم یہاں نیا ہوسٹل اور اکیڈمک بلاک تعمیر کر رہے ہیں۔ جس کے نقشے اور فنڈز کی منظوری بھی ہو چکی ہے۔"

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ پر نیل، وائٹ ہاؤس نے زیادہ ہینڈ شیک کو وجہ قرار دے دیا

اختتام پر میٹنگ

چوہدری جعفر زبردستی اکیڈمی کے ہوسٹل کو ڈی پی ایس سکول بنانے پر مصر ہیں جبکہ تجویز کردہ ہوسٹل کی جگہ گجرات یونیورسٹی کا کیمپس بنوانا چاہتے ہیں۔ اتنے میں میٹنگ روم آ گیا۔ میں کمشنر کو وہاں چھوڑ کر دفتر چلا آیا۔ تھوڑی ہی دیر میں انہوں نے مجھے بلا بھیجا۔

یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی خدشات، متحدہ عرب امارات سے فلائٹ آپریشن بحال نہ ہوسکا

کمشنر کا پیغام

کہنے لگے؛ "آپ کدھر چلے گئے تھے؟" میں نے جواب دیا؛ "سر! میٹنگ میں نہ میں مدعو ہوں لہٰذا..." کہنے لگے؛ "آپ کے بغیر میٹنگ ادھوری ہے۔" یہ ان کی محبت تھی۔ چوہدری جعفر سے کہنے لگے؛ "یہ جگہ نہ سکول اور نہ ہی یونیورسٹی کیمپس کے لئے مناسب ہے۔ لوکل گورنمنٹ کی اس اکیڈمی میں توسیعی کام کا آغاز ہونے والا ہے۔ کوئی اور جگہ تلاش کریں۔"

یہ بھی پڑھیں: جمہوریہ کانگو، وزیر کے طیارے کو آگ لگ گئی، مسافر محفوظ

میٹنگ کا اختتام

اے سی اور ڈی سی سے بھی یہی کہا کہ آپ نے کیسے اکیڈمی کا انتخاب کر لیا بغیر ڈائریکٹر سے پوچھے۔ میٹنگ ختم ہوئی۔ انہیں الوداع کہا تو مجھے لیاقت چٹھہ کہنے لگے؛ "سر! آپ کی بریفنگ ہمیشہ کی طرح کمشنر صاحب کے دل و دماغ میں اتر گئی ہے، بہرحال کوئی حکم ہو تو میں حاضر ہوں۔" اے سی کھاریاں بھی اپنے رویہ پر معذرت کر گئیں۔ چوہدری جعفر کہنے لگے؛ "شہزاد صاحب! مجھے خوشی ہوئی آپ نے اپنے محکمے کا مؤقف درست انداز میں پیش کیا۔ بہرحال میں نے یہاں سے جگہ لینی ہی لینی ہے۔" (جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...