کہا ”اس شترِ بے مہار کو روکو…… اس کو اک دُشنام اک دھتکار دے بیٹھو“ ایک اور لت بھی پڑ گئی، لذیذ اور چٹخارے دار کھانوں نے روز مرّہ کا تیا پانچا کر دیا۔
مصنف کی وضاحت
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 101
یہ بھی پڑھیں: شرجیل انعام میمن نے بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں سے منسوب جی ایس پی پلس اسٹیٹس سے متعلق بیان قومی مفادات کے خلاف خطرناک سازش قرار دے دی
عقل کی گفتگو
عقل چُپکے سے ناصح بن بیٹھی! کہا ”اِس شترِ بے مہار کو روکو…… اِس کو اِک دُشنام اِک دُھتکار دے بیٹھو۔“
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور ہیں اسلام آباد پرچڑھائی کے ذمہ دار، آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی
عشق کی یادیں
کہا ”یاد ہے؟ عشق میں تخت و تاج نہ رہے بکھر گئے“
”وہ جُبّہ و دستار سبھی بھسم ہُوئے“
”وہ شوخیاں حزن و ملال میں بدلیں“
”وہ آرزوئیں نہ کبھی آس میں بدلیں، چُپکے چُپکے سے شام کر ڈالو“
”دِل ناداں کو رام کر ڈالو“
یہ بھی پڑھیں: عوام کو ریلیف دینے کے مزید اقدامات پر بھی مشاورت جاری ہے، وزیراعظم شہباز شریف
وقت کا سوال
اُدھر اٹھا جو ”وقت“ سوال کر بیٹھا؟
”تبدیلیٔ مذہب شرط ہوگی“
تو کیا ہے ”سب مذاہب کو جینے کا حق ہے“
وہ پھر بولا!
”جہنم کی آگ تمہارا اوڑھنا بچھونا ہوگی“
دِل مُنہ پھاڑ کے بولا
کل کس نے دیکھی ہے …… دیکھا جائے گا!
یہ بھی پڑھیں: غزہ پر اسرائیلی بمباری نے دوران قید سب سے زیادہ خطرے میں ڈال دیا: سابق یرغمالی خاتون
سوسائٹی کا چیلنج
س: سوسائٹی کی پھٹکار سہہ لو گے؟
ج: کونسی پھٹکار، نئی بننے والی سوسائٹی سنبھال لے گی!
یہ بھی پڑھیں: بھارتی سرکاری افسران بھی بی جے پی غنڈوں کے ہاتھوں غیر محفوظ
دِل کا سفر
نا جانے کیوں دِل پھر رُکا…… بُجھا، پھر کھِلا ……پھر دُکھااور شکوے پہ اُتر آیا!
سبھی مُجھ سے یہ کہتے ہیں کہ نیچی رکھ نظر اپنی
کوئی اُن سے نہیں کہتا نہ نکلو یوں عیاں ہوکر
یہ بھی پڑھیں: حمل کے دوران نوجوان خاتون کی شکل و صورت تبدیل
چنیوٹ کا حال
چنیوٹ شہر کے گرد و نواح کا سوئل سروے کرتے، گوسرکاری طور پر خانساماں ملا ہوا تھا اور ریسٹ ہاؤس میں کھانے کا اہتمام وہی کرتا تھا لیکن چنیوٹ شہر کے لذیذ اور چٹخارے دار کھانوں نے اس روز مرّہ کا تیا پانچا کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت آج نہیں ہو سکے گی
دریائے چناب کی خوشبو
اکثر دوپہر کا کھانا چنیوٹ شہر میں ہی تناول کیا جانے لگا۔ اُس کے ساتھ ایک اور لَت بھی پڑ گئی، وہ یہ کہ پیٹ بھرے دریائے چناب کے کنارے دریا کی موجوں کی اٹکھیلییوں سے جھولیاں بھرتے، لیٹے رہتے، وہ تو ڈرائیور حسب ہدایت ایک گھنٹے کے دوران ہارن پہ ہارن بجانے لگتا تو اُٹھ کر اپنے سوئل سروے کا ڈول ڈال دیتے。
یہ بھی پڑھیں: بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری جےشاہ نے چیئرمین آئی سی سی کا چارج سنبھال لیا
رَبواہ کا واقعہ
دریائے چناب سے آگے چلتے جائیں تو بائیں طرف ”رَبواہ“ کا ریلوے اسٹیشن آپ کی نگاہ سے گزرے گا۔ اُن دنوں اسٹیشن کے گرد و نواح میں ایک بڑا نا خوشگوار واقعہ رونما ہوا۔ اِس اسٹیشن کے ساتھ ایک اچھی خاصی آبادی تھی۔ کسی اشتعال انگیز بات پر فساد برپا ہوگیا اور دو تین جانوں کا ضیاع بھی ہوا۔
(جاری ہے)
نوٹ
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








