ہر بیٹی ہوگی بااعتماد: وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے تحت طالبات کے لیے سیلف ڈیفنس ورکشاپس
سیلف ڈیفنس ٹریننگ پروگرام کا آغاز
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور نے پاکستان مارشل آرٹس ایسوسی ایشن کے تعاون سے لاہور ڈویژن بھر کی طالبات کے لیے بڑے پیمانے پر "سیلف ڈیفنس ٹریننگ" پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد نچلی سطح پر کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں، بالخصوص لڑکیوں کو بااختیار بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تربت سے کراچی جانے والی سیکیورٹی کمپنی کی گاڑی سے مسلح افراد نے 22 کروڑ روپے لوٹ لیے
ورکشاپس کی کامیابی
لاہور، شیخوپورہ اور قصور میں جاری ان ورکشاپس کے دوران اب تک 30 اسکولوں کی 2500 سے زائد طالبات کو تربیت دی جا چکی ہے۔ یہ پروگرام مارشل آرٹس کو ایک باقاعدہ کھیل کے طور پر استعمال کرتے ہوئے طالبات کی جسمانی فٹنس، چستی اور ذہنی استقامت کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں حفاظت کے ضروری گر سکھا رہا ہے۔ ٹریننگ سیشنز پی ایم اے اے کے صدر اور چیف ٹرینر انور محی الدین کی سربراہی میں ماہر کوچز کی نگرانی میں منعقد کیے جا رہے ہیں، جس میں جدید مارشل آرٹس، نظم و ضبط اور دفاعی مہارتوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ و اسرائیل کے حملے میں 201 ایرانی مارے گئے
نوشین کی اہمیت
وائس چانسلر یو ایچ ایس پروفیسر احسن وحید راٹھور نے اس موقع پر کہا کہ یہ اقدام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس ویژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت پنجاب کی ہر لڑکی کو خود حفاظتی کی تربیت دینا مقصود ہے۔ انہوں نے اسے ایک محفوظ اور مضبوط معاشرے کی تعمیر کی جانب اہم قدم قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: عید الفطر کب ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے متوقع تاریخ بتا دی
تعلیمی اداروں اور سماجی حلقوں کا ردعمل
ڈائریکٹر یو ایچ ایس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پروفیسر ڈاکٹر سدرہ سلیم نے واضح کیا کہ سیلف ڈیفنس کی تعلیم نوجوان نسل کی نشوونما کے لیے ناگزیر ہے تاکہ وہ خود اعتمادی اور آزادی کے ساتھ آگے بڑھ سکیں۔ چیف ٹرینر انور محی الدین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مارشل آرٹس محض ایک کھیل نہیں بلکہ زندگی بچانے کی ضرورت ہے، اور طلبہ و والدین کی جانب سے ملنے والے بھرپور ردعمل کے بعد اس پروگرام کا دائرہ کار ملک بھر میں پھیلایا جائے گا۔
خواتین کی خودمختاری اور تحفظ
تعلیمی اداروں اور سماجی حلقوں نے اس اقدام کو خواتین کی خودمختاری اور تحفظ کے حوالے سے ایک طاقتور سنگ میل قرار دیتے ہوئے اسے سراہا ہے۔








