یہ وہ موسم تھا جب میلوں پر پھیلے ریت کے ٹیلوں پر تربوز کی فصل جلوہ افروز تھی، کبھی کبھی بارش ہوجاتی تو ہمیں بھی سکون ملتا اور تربوز کی فصل بھی مستفید ہوتی۔
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 102
”ربواہ“اسٹیشن سے سڑک کے اُس پار قبرستان بھی تھا۔ اُن کا کہناتھا کہ جو وہاں آکر دفن ہوا اُ س کا حساب کتاب نہیں ہوگا۔ مجھے یاد ہے کہ میں کہاں پرانا قصّہ لے بیٹھا۔ اس فرقہ کے لوگ تو اکثر نقل مکانی کر کے چلے گئے ہیں اور دُوسرے ملکوں میں جا آباد ہوئے۔
سروے کا آغاز
آگے جناب ”ہرسہہ شیخ“ اور ”لالیاں“ کے علاقہ کا سوئل سروے کرتے تین چار ماہ صرف ہوئے۔ آگے پھر ہمیں ”نور پور تھل“ جا کر قیام کرنا تھا۔ لیکن راستے میں قائد آباد صنعتی ایریا کی ورق گردانی کے لیے رُک گئے کیونکہ اُس وقت بیگم اور پہلوٹھی کا بچہ اعجاز سعید بھی ساتھ تھا۔ وہاں گرم کپڑے بنانے کے بڑے کارخانے میں گئے اور گرم کپڑا بُننے کے تمام مراحل سے آگاہی حاصل کی۔
نور پور تھل کا منظر
نور پور تھل کے مقامی لوگ صبح سویرے گھر سے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور اپنے تربوزوں کے رقبہ میں جا کر وہاں ٹھہرتے ہیں اور تربوز کھاتے ہیں۔ لیکن کیا مجال جو ایک بیج بھی ضائع کریں، سب سنبھال کر ایک پوٹلی میں باندھ کر گھر لے جاتے ہیں اور گندم کے ساتھ بھون کر خود بھی کھاتے ہیں اور مہمانوں کو بھی پیش کرتے ہیں۔
تربوز کی ذخیرہ اندوزی
جب تربوزوں کا موسم اختتام پذیر ہونے لگتا ہے تو اپنے گھروں کے پاس ریت میں ”بڑے بڑے گڑھے“ کھود کر باہر سے پکے تربوز لا کر اُن گڑھوں میں بھر دیتے ہیں اور اوپر سے ریت ڈال کر پُر کردیتے ہیں اور پھر ہر روز دو تین تربوز نکال کر کھاتے جاتے ہیں۔
بازار کی رونقیں
یہ جتنے تربوز اِدھر آپ دیکھتے ہیں اُن کی اکثریت اُس علاقہ سے ٹرکوں کے ذریعے آتے ہیں۔ سروے کرتے ایک ریت کے ٹیلے پر پڑے 2 مرغے دیکھے۔ پتہ کیا تو مرغوں کی مالک مائی نے کہا دو دو روپے میں دوں گی۔ 4 روپے کے 2 مرغے لیے اور ایک روپیہ پانچ آنے میں ایک مرغی بھی لے لی۔ پریشان نہ ہوں اُس وقت ”خادم“ کی تنخواہ بطور ریسرچ آفیسر 298/-روپے ماہوار تھی اور دو روپے یومیہ روزانہ فیلڈ کا ”جیب خرچ“ ملتا تھا۔
نور پور ریسٹ ہاؤس میں قیام
نور پور ریسٹ ہاؤس میں قیام رہا۔ ساتھ فیملی بھی تھی۔ اُس وقت پہلوٹھی کا لڑکا اعجاز سعید بھی تھا۔ سب سے پہلے نور پور تھل بازار کی رونقوں کا ذکر ہوجائے کہ یہ بازار ایک وسیع علاقہ کی ضرورتوں کو پورا کرتا تھا۔ خاص طور پر جمعہ کے دن دُور دراز کے تھل کے علاقہ سے لوگ جمعہ کی نماز پڑھنے یہاں چلے آتے۔ نماز کے بعد پھر بازار میں جو سماں ہوتا تھا وہ قابل دید تھا۔
قصابوں کی دکانیں
وہ لوگ باہر سے آکر اپنی ہفتہ بھر کی گھریلو ضروریات کی چیزیں خرید کر جمع کر لیتے اور سب سے نمایاں وہاں پر چند قصابوں کی دکانیں تھیں جنہوں نے وہاں کوئلے جلا کر گوشت کو باربی کیو کرنے کا انتظام کیا ہوا تھا۔ چنانچہ وہاں لوگوں کا رش لگا رہتا۔ مقامی اور باہر سے آئے لوگ اُس لذیذ ڈش سے لطف اندوز ہوتے۔
سروے کی تفصیلات
اپنی سوئل سروے پارٹی جو ایک آفیسر اور لیبر پر مشتمل تھی وہاں نور پور ریسٹ ہاؤس میں مقیم تھی۔ غالباً جولائی اگست، ستمبر کے مہینوں میں وہاں تھل کا سروے کیا۔ یہ وہ موسم تھا جب میلوں پر پھیلے ریت کے ٹیلوں پر تربوز کی فصل جلوہ افروز تھی۔ موسم گو گرم ہی تھا لیکن کبھی کبھی جو بارش ہوجاتی تو ہمیں بھی سکون ملتا اور تربوز کی فصل بھی مستفید ہوتی۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








