اسرائیلی پارلیمنٹ نے فلسطینیوں کیلئے خصوصی سزائے موت کا قانون منظور کر لیا
اسرائیل کی پارلیمنٹ میں متنازع قانون کی منظوری
تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے اسرائیلی شہریوں کے قتل میں ملوث فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا متنازع قانون منظور کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: یمن میں سعودی فضائی حملے پر امارات کا رد عمل آگیا
وزیر اعظم کا کردار
عرب میڈیا کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو بھی ذاتی طور پر پارلیمنٹ میں موجود رہے اور بل کے حق میں ووٹ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کا پنجاب پریزن سٹاف ٹریننگ کالج کا دورہ، مختلف مراحل کا جائزہ لیا
قانون کی تفصیلات
اس قانون کے مطابق، مقبوضہ مغربی کنارے کے وہ فلسطینی جو اسرائیلی شہریوں کے قتل کے جرم میں سزا یافتہ ہوں گے انہیں پھانسی دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ قانون اسرائیلی عدالتوں کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ اسرائیلی شہریوں کے لیے بھی سزائے موت یا عمر قید میں سے کسی ایک سزا کا فیصلہ کر سکیں۔ تاہم، یہ قانون ماضی پر لاگو نہیں ہوگا بلکہ صرف آئندہ کیسز پر نافذ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے مختلف حصوں میں آج موسم کیسا رہے گا؟
تنقید کا سامنا
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق، اس قانون پر اسرائیلی اور فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کی ہے جن کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نسل پرستانہ اور سخت گیر ہے اور اس سے حملوں کی روک تھام ممکن نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: بھاؤگو گاؤں کی اماں اور اسکی بیٹی ایک کام کے سلسلے میں ملنے آئی
انتہا پسند دائیں بازو کی کامیابی
اس قانون کی منظوری کو اسرائیل کی انتہا پسند دائیں بازو کی جماعتوں کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے جنہوں نے طویل عرصے سے اس اقدام کے لیے دباؤ ڈال رکھا تھا۔
انصاف کے نظام پر اثرات
عرب میڈیا کے مطابق، اس قانون کو اسرائیل کی سپریم کورٹ میں قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔








