اسرائیلی پارلیمنٹ نے فلسطینیوں کیلئے خصوصی سزائے موت کا قانون منظور کر لیا
اسرائیل کی پارلیمنٹ میں متنازع قانون کی منظوری
تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیل کی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے اسرائیلی شہریوں کے قتل میں ملوث فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا متنازع قانون منظور کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: اوول آفس میں پادریوں کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے دعا کی ویڈیو وائرل
وزیر اعظم کا کردار
عرب میڈیا کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو بھی ذاتی طور پر پارلیمنٹ میں موجود رہے اور بل کے حق میں ووٹ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان پری امیگریشن کلیئرنس پر اتفاق
قانون کی تفصیلات
اس قانون کے مطابق، مقبوضہ مغربی کنارے کے وہ فلسطینی جو اسرائیلی شہریوں کے قتل کے جرم میں سزا یافتہ ہوں گے انہیں پھانسی دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ قانون اسرائیلی عدالتوں کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ اسرائیلی شہریوں کے لیے بھی سزائے موت یا عمر قید میں سے کسی ایک سزا کا فیصلہ کر سکیں۔ تاہم، یہ قانون ماضی پر لاگو نہیں ہوگا بلکہ صرف آئندہ کیسز پر نافذ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ
تنقید کا سامنا
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق، اس قانون پر اسرائیلی اور فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کی ہے جن کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نسل پرستانہ اور سخت گیر ہے اور اس سے حملوں کی روک تھام ممکن نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: معمر خاتون کی بے توقیری پر لیسکو گارڈ معطل، مقدمہ درج ، پاور ڈویژن کا سخت نوٹس
انتہا پسند دائیں بازو کی کامیابی
اس قانون کی منظوری کو اسرائیل کی انتہا پسند دائیں بازو کی جماعتوں کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے جنہوں نے طویل عرصے سے اس اقدام کے لیے دباؤ ڈال رکھا تھا۔
انصاف کے نظام پر اثرات
عرب میڈیا کے مطابق، اس قانون کو اسرائیل کی سپریم کورٹ میں قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔








