گلوکار علی ظفر 8سال سے زیر سماعت ہتک عزت کیس جیت گئے، میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے جرمانہ
عدالتی فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سیشن کورٹ نے گلوکار علی ظفر کا میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت دعویٰ کا فیصلہ سنادیا۔
یہ بھی پڑھیں: سفارتی و سیکیورٹی پیش رفت پر انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ (آئی پی او آر) کی سروے رپورٹ جاری، عوام نے کن خیالات کا اظہار کیا ؟ جانیے
ہرجانے کا فیصلہ
ایڈیشنل سیشن جج آصف حیات نے محفوظ فیصلہ سنایا، فیصلے میں عدالت نے گلوکارہ میشا شفیع کو 50 لاکھ روپے ہرجانے کا حکم دیا۔ عدالت نے میشا شفیع کو ہراسگی سے متعلق ٹویٹ کرنے سے بھی روک دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فضائیہ نے ڈاگ فائٹ اور ایئر ڈیفنس سسٹم سے بھارت کے کتنے طیارے گرائے؟ حامد میرکا بڑا دعویٰ
عدالتی کارروائی
علی ظفر کی جانب سے ایڈووکیٹ عمر طارق گل جبکہ میشا شفیع کی جانب سے ایڈووکیٹ ثاقب جیلانی نے دلائل دیے۔ علی ظفر نے میشا شفیع کے خلاف 100 کروڑ ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا، جس میں میشا شفیع نے علی ظفر پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا۔ کیس میں مجموعی طور پر 20 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے، اور 284 پیشیاں ہوئیں، اس دوران 9 ججز کے تبادلے بھی ہوئے۔
پس منظر
خیال رہے کہ علی ظفر نے 2018 میں میشا شفیع کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔








