ایک دن کی چھٹی بڑھانے یا اسکول بند کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، لوگ گھر بیٹھنے کی بجائے اور زیادہ باہر جانا شروع ہوگئے ہیں، عطا تارڑ
پٹرول کی دستیابی اور سبسڈی کا معاملہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے ملک میں پٹرول کی کوئی قلت نہیں، مگر وفاقی حکومت تین ہفتوں میں اب تک بچت اور پی ایس ڈی سے 129 ارب روپے کی پٹرول پر سبسڈی دے چکی ہے۔ قیمتوں کو مزید روکنا بڑا مشکل ہو گا، آئندہ ایک دو روز میں آئندہ کا لائحہ عمل سامنے آ جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اہم شہر میں 13 سالہ سگی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنوانے والی ماں کو گرفتار ، افسوسناک انکشاف
چھٹیوں اور عوام کی سرگرمیوں کا اثر
نجی ٹی وی سے گفتگومیں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک دن کی چھٹی بڑھانے یا سکول بند کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، لوگ گھر بیٹھنے کی بجائے اور زیادہ باہر جانا شروع ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس اس پر تھا کہ پٹرول کے ذخائر کتنے ہیں، کتنے وقت تک قیمتوں میں اضافہ روکا جا سکتا ہے اور عوام کو کیسے بتایا جائے کہ یہ لانگ ویک اینڈ نہیں کہ باہر نکل جائیں بلکہ پٹرول بچانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی، 9 ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
پٹرول کی فراہمی اور قیمتوں پر اثرات
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے بروقت پٹرول آرڈرکیا، فجیرہ اور سعودی عرب سے تیل منوایا گیا۔ وزیرداخلہ نے آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی یقینی بنانے کے لیے ایران سے رابطہ کاری کی۔ عطا تارڑ نے کہا کہ پٹرولیم قیمتوں کو مزید روکنا بڑا مشکل ہو گا، وفاقی حکومت اب تک پٹرولیم پر 129 ارب روپے کی سبسڈی ڈال چکی ہے اور یہ ہر ہفتے کا خرچہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے بیٹے کا نام قاسم ہے، محمد بن قاسم تو نہیں : نصرت جاوید
صوبوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس اور آئندہ لائحہ عمل
عطا تارڑ نے کہا کہ وفاقی حکومت جو ہر ہفتے 50 ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دے رہی ہے، اس کو زیادہ دیر چلانا ممکن نہیں۔ اسی لئے صوبوں کے ساتھ اجلاس کیا گیا اور آئندہ ایک دو روز میں آئندہ کا لائحہ عمل سامنے آ جائے گا۔ آبنائے ہرمز کے باہر سے بھی پاکستان کو کارگو ملے ہیں اور اندر سے بھی ہمارے پٹرول کی ترسیل کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
عوامی آگاہی اور حکومت کی کوششیں
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت کی ساٹھ فیصد گاڑیاں کھڑی کر دی گئی ہیں، پچاس فیصد پٹرول کاٹا گیا ہے۔ ہائی آکٹین کی قیمت بڑھانے سے نو ارب روپے ملے ہیں۔ اب ایک آپشن اس وقت لاک ڈاﺅن ہے، دوسرا آپشن قیمتیں بڑھانا اور کم آمدنی والے طبقات کو فائدہ پہنچانا ہے۔ اجلاس میں بات ہوئی ہے، فیصلہ چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں میں صوبوں کی مشاورت سے ہو گا۔








