پنجاب یونیورسٹی کا مالی محمد لطیف پراسرار طور پر لاپتہ ہو گیا
محمد لطیف کی پراسرار گمشدگی
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب یونیورسٹی میں مالی خدمات فراہم کرنے والے محمد لطیف پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بیلجیئم کا فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے اور اسرائیل پر سخت پابندیاں لگانے کا اعلان
واقعے کا پس منظر
اہل خانہ کے مطابق، محمد لطیف، جو عبدالرحمان کے بیٹے ہیں، یونیورسٹی میں ملازمت کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم رکشہ چلا رہے تھے۔ گزشتہ روز وہ رکشہ چلا رہے تھے، جب ایک نامعلوم سواری نے مبینہ طور پر انہیں نشہ آور چیز کھلا دی، جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: 25 کروڑ مالیت کی چوری کا مقدمہ، گھریلو ملازمہ سے صرف 2 ہزار روپے برآمد،ملزمہ بری۔
پہنچنے والی مدد
عینی شاہدین کے مطابق، ایک راہگیر نے محمد لطیف کو بے ہوشی کی حالت میں دیکھ کر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی، جس کے بعد امدادی ٹیم موقع پر پہنچی اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد انہیں سروسز ہسپتال منتقل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بالائی سندھ کے تمام اضلاع میں آندھی اور بارش کا امکان
بیماری کے بعد کی صورتحال
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ہسپتال کی انتظامیہ نے علاج کے بعد محمد لطیف کو رات تقریباً 10 بجے ڈسچارج کر دیا۔ تاہم، ہسپتال سے نکلنے کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں اور تاحال ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق صدر عارف علوی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست خارج
رکشے کی صورتحال
خاندان کے مطابق، محمد لطیف کا رکشہ (نمبر LEU-9529) اس وقت راجہ مارکیٹ پولیس چوکی میں موجود ہے، جبکہ ان کی گمشدگی نے اہل خانہ کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
خاندان کی درخواست
اہل خانہ نے متعلقہ اداروں سے فوری تلاش اور بازیابی کی اپیل کی ہے۔








