آئینی عدالت نے وزیر اعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی سے عمران خان رہائی فورس کی تشکیل پر جواب طلب کرلیا
اسلام آباد میں اہم سماعت
وفاقی آئینی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے مبینہ “رہائی فورس” کی تشکیل کے معاملے پر جواب طلب کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کا سیکیورٹی فورسز کو 11 بھارتی سپانسرڈ خوارج کو جہنم واصل کرنے پر خراج تحسین
درخواست کی سماعت
عدالت میں اس حوالے سے دائر درخواست پر سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے اپنے مؤقف کے حق میں متعلقہ شواہد اور دستاویزات عدالت میں پیش کیں۔ وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا مقابلہ ڈاکوؤں سے ہے، جبکہ انہوں نے اس ضمن میں دھمکیوں سے متعلق مختلف مضامین اور امن و امان کے حوالے سے کراچی ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کا بھی حوالہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: مشہور ٹک ٹاکر علینہ عامر کا اپنی نازیبا لیک ویڈیو پر ردعمل وائرل
کابینہ کی منظوری کا سوال
سماعت کے دوران جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ آیا کابینہ کی جانب سے ایسی کسی فورس کے قیام کی منظوری دی گئی ہے یا نہیں۔ اس پر وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ کابینہ نے اس قسم کی کسی فورس کی اجازت نہیں دی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت اس امر کو یقینی بنائے کہ کسی بھی سطح پر قانون کی خلاف ورزی نہ ہو۔
چیف جسٹس کے ریمارکس
بعد ازاں عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سے وضاحت طلب کر لی۔ چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس میں کہا کہ کسی سزا یافتہ فرد کے لیے اس نوعیت کی فورس قائم نہیں ہونی چاہیے، اور اس معاملے کی مکمل چھان بین ضروری ہے۔








