مریم نواز کے الیکشن کو متنازعہ نہ بنانے اور الیکشن سے دستبرداری کیلئے مخالف امیدوار کو 1 ارب روپے کی پیشکش کا دعویٰ سامنے آگیا
مریم نواز کے الیکشن سے متعلق 1 ارب روپے کی پیشکش
لاہور (ویب ڈیسک) صحافی سید ذیشان عزیز نے ذرائع کے حوالےسے دعویٰ کیا ہے کہ مریم نواز کے الیکشن کو متنازعہ نہ بنانے اور الیکشن سے دستبرداری کیلئے مخالف امیدوار مہر شرافت کو 1 ارب روپے کی پیشکش کی گئی جسے قبول کرنے سے مہر شرافت انکاری رہے۔ آخر میں انہوں نے 9 مئی کے مقدمات میں بے گناہ لوگوں کی رہائی کی ڈیمانڈ رکھی جس کے بعد ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: تاج حیدر کی خالی سینیٹ نشست کے لیے 4 امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی جمع، جانچ پڑتال شروع
مہر شرافت کا انکار
اپنے ایک ولاگ میں سید ذیشان عزیز نے کہاکہ مجھے ایک ذریعے نے بتایا کہ جب مریم نواز اور مہر شرافت کا الیکشن ابھی ہونا تھا تو کسی نے مہر شرافت سے رابطہ کیا اور آفر کی کہ لگ بھگ ایک ارب روپے لے لیں اور ہماری صرف 2 خواہشات ہیں، وہ پوری کرلیں۔ ایک تو الیکشن سے ایک دو دن پہلے بیٹھ جائیں اور مریم نواز جیت جائیں گی۔ اگر پیچھے نہیں ہٹتے تو نتیجہ آنے کے بعد آپ اپنی ہار تسلیم کرلیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز نے پنجاب اکنامک ٹرانسفارمیشن کمیٹی تشکیل دے دی
مخصوص آفرز
مریم نواز کی جیت کو متنازعہ مت بنائیں، ساتھ ہی ایڈوائزی، ٹکٹ اور پنجاب میں کہیں بھی کوئی کام ہو، وہ بھی کروادینے کی پیشکش کی گئی۔ مریم سے ون آن ون ملاقات کی بھی آفر ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: آج ہم ترمیم کرکے کیک اور باقی سب دھول کھائیں گے، سینیٹر فیصل واوڈا
الیکشن کے نتائج کا اعلان
مہر شرافت نے اس آفر کو انکار کردیا کہ الیکشن لڑوں گا اور جو بھی نتیجہ ہوگا دیکھ لوں گا۔ پھر نتیجہ آیا، مریم نواز کی جیت کا اعلان ہوتا ہے تو 9 فر وری کو آر او آفس میں ایک درخواست جمع کراتے ہیں کہ سی سی ٹی وی، فارم 45، 47 کا تمام ریکارڈ اور انتخابی عمل کا حصہ سب لوگوں کی انکوائری کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی کمیونٹی ہمیشہ محبت، اخلاص اور یکجہتی کی روشن مثال رہی ہے: عزیزالرحمن مجاہد
دوبارہ رابطہ
اسی دن مہر شرافت سے ڈیل آفر کرنے والا بندہ رابطہ کرتا ہے کہ اب مان جائیں، درخواست بھی آگئی جو آپ کو بھیج چکا، آفر آج بھی وہی ہے، مہر شرافت نے درخواست واپس لینے سے انکار کیا۔ 10 فروری کو دوبارہ درخواست دیتے ہیں تو وہی درخواست پھر آجاتی ہے کہ پتہ ہے، کچھ نہیں ہونا، آپ متنازعہ نہ بنائیں۔
یہ بھی پڑھیں: سابق پاکستانی کوچ باب وولمر نے مرنے سے پہلے قومی ٹیم کے کھلاڑیوں سے آخری بات کیا کی تھی؟
الیکشن کمیشن اور اپیلٹ ٹربیونل کی جانب اقدام
ذیشان عزیز نے مزید بتایا کہ اس کے بعد مہر شرافت الیکشن کمیشن اور اپیلٹ ٹربیونل چلے جاتے ہیں، پھر وہی شخصیت رابطہ کرتی ہے کہ یہ درخواستیں دی ہیں، یہ لیں، ان درخواستوں پر کچھ بھی نہیں ہونا، اب شور نہ ڈالیں۔
یہ بھی پڑھیں: نور خان بیس پر حملے کے بعد عوام سڑکوں پر نکل آئے، پاکستان زندہ باد کے نعرے
مہر شرافت کی تصدیق
ولاگ میں ان کا مزید کہنا ہے کہ جب میں نے مہر شرافت سے تصدیق کیلئے رابطہ کی تو انہوں نے کہاکہ یہ بات بالکل ٹھیک ہے لیکن بات ادھوری ہے۔ اس سے آگے پھر میں نے کہاکہ ڈیل کی سمجھ نہیں آتی، پیسے اور عہدہ لینا نہیں، میں آپ کو ایک آفر کرتا ہوں کہ 9 مئی کے کیسز کے بے گناہ لوگوں کو رہا کردیں، میں اس الیکشن کو مزید متنازع نہیں بناوں گا۔
رابطہ منقطع
لیکن یہ بات عمران خان کو ضرور بتاؤں گا کہ یہ ڈیل آفر کی۔ مجھے یہ آفرز ہوتی رہیں، اس کے بعد مذکورہ شخصیت نے کہاکہ آپ کا موقف آگیا، میں ڈسکس کرلوں گا اور اس کے بعد میرا (مہر شرافت) اس شخصیت سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔
pp 159








