برطانیہ ایران سے متعلق جاری تنازع میں براہ راست شامل نہیں ہوگا اور نہ ہی مشرقِ وسطیٰ میں فوج تعینات کرے گا، وزیر اعظم کیئر اسٹارمر
برطانوی وزیر اعظم کا بیان
لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن) برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ برطانیہ ایران سے متعلق جاری تنازع میں براہ راست شامل نہیں ہوگا اور نہ ہی مشرقِ وسطیٰ میں فوج تعینات کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ جلد ختم نہ ہوئی تو عالمی اور برطانوی معیشت کو سنگین نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: الزامات غیر ذمہ دارانہ، خطے میں دہشتگردی کے فروغ میں بھارت کا کردار واضح ہے: دفتر خارجہ
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال
پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ کے اثرات اگلی نسلوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ اس صورت حال میں برطانیہ کے طویل مدتی مفادات کا تقاضا ہے کہ وہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط کرے۔ ٹرمپ کی تنقید کے جواب میں کیئر اسٹارمر نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی دباؤ میں آ کر برطانیہ کو جنگ میں نہیں جھونکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سے عبرتناک شکست پر انڈین کرکٹ بورڈ کی ٹویٹ توجہ کا مرکز بن گئی
یورپ کے ساتھ تعلقات
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی توجہ یورپ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے پر ہے اور بریگزٹ کے باعث ہونے والے گہرے نقصان کا ازالہ کرنا ضروری ہے۔ ایران کے خلاف جاری جنگ برطانیہ کی جنگ نہیں ہے اور نہ ہی برطانیہ کا اس سے کوئی تعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک کو محفوظ رکھنا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستحکم مستقبل یقینی بنانا ہے۔
سفارتی کوششیں
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور سفارتی سطح پر امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم واضح کیا کہ برطانیہ کسی بھی فوجی کارروائی میں شامل نہیں ہوگا۔ برطانیہ اس ہفتے اتحادی ممالک کے اہم اجلاسوں کی میزبانی کرے گا، جن کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم بحری راستے کو کھلوانے کی کوششوں میں 35 ممالک ان کے ساتھ ہیں۔
Keir Starmer on Iran:
This is not our war. We will not be drawn into the conflict.
That is not in our national interest. pic.twitter.com/dS77KJWuvj
— Clash Report (@clashreport) April 1, 2026








