وینس نے مذاکراتی عمل میں زیادہ فعال کردار سنبھال لیا ہے، روئٹرز کا دعویٰ
ایران جنگ کے معاملے میں امریکہ کی تازہ پیش رفت
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران جنگ کے معاملے پر پاکستان کے ذریعے رابطوں کو تیز کر دیا ہے۔ تازہ پیش رفت کے مطابق، وہ منگل تک پاکستانی ثالثوں کے ساتھ رابطے میں رہے۔ روئٹرز کے مطابق ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکی کوششوں میں وینس کا کردار تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو اس تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بٹ کوائن کی قیمت نئی بلند ترین سطح ایک لاکھ 16 ہزار ڈالر سے تجاوز کرگئی
امریکی شرائط اور جنگ بندی کی امید
ذرائع کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر جے ڈی وینس نے پس پردہ یہ پیغام دیا کہ واشنگٹن جنگ بندی پر آمادہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے ایران کو کچھ امریکی شرائط ماننا ہوں گی۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک سخت پیغام بھی پہنچایا جس میں کہا گیا کہ ٹرمپ اس معاملے پر تیزی چاہتے ہیں اور اگر تہران نے معاہدے کی طرف پیش رفت نہ کی تو ایران کے انفراسٹرکچر پر دباؤ مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ کے برطانیہ پر اقتصادی اثرات، شرح سود 3.75 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
پاکستان کا کردار
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، جہاں سفارتی چینلز کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ جنگ اب پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور ایسے میں وینس نے مذاکراتی عمل میں زیادہ فعال کردار سنبھال لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویرات کوہلی پاکستان میں کھیلنے کےلیے بے تاب ہیں، شعیب اختر کا دعویٰ
سیاسی مبصرین کی رائے
سیاسی مبصرین کے مطابق جے ڈی وینس، جنہیں 2028 کے صدارتی انتخابات میں ممکنہ امیدوار کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، اس تنازع پر نسبتاً محتاط پالیسی رکھتے ہیں اور طویل امریکی فوجی مداخلت کے حوالے سے پہلے ہی شکوک و شبہات کا اظہار کر چکے ہیں۔
ٹرمپ کی جانب سے ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی
ذرائع نے مزید بتایا کہ صدر ٹرمپ کی ٹیم، جس میں وزیر خارجہ مارکو روبیو، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں، مذاکراتی عمل میں بدستور متحرک ہے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ ایرانی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتا ہے، تاہم انہوں نے ممکنہ حملے، خاص طور پر ایران کے پاور گرڈ پر، 6 اپریل تک مؤخر کر دیے ہیں تاکہ سفارتی حل کے لیے مزید وقت دیا جا سکے۔








