امریکی عسکری کمانڈر خلیجی ممالک میں اڈوں کو لاحق خطرات سے خبردار کرتے رہے، حکومتیں نظر انداز کرتی رہیں، امریکی اخباروال سٹریٹ جرنل کا دعویٰ
امریکی فوجی اڈوں کو خطرات
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) خلیجی ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو لاحق خطرات کے بارے میں امریکہ کے اعلیٰ عسکری کمانڈرز برسوں خبردار کرتے رہے تاہم امریکی حکومتیں اسے نظر انداز کرتی رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا پولینڈ اور بالٹک ریاستوں کے دفاع کا اعلان
اہم اثاثوں کی منتقلی کی سفارشات
امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی حکومتوں نے ان فوجی اڈوں سے اہم اثاثوں کی منتقلی سے متعلق سفارشات کو نظرانداز کیا، جس کے نتیجے میں حالیہ ایرانی حملے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان ٹیسٹ: پاکستان کو 6 وکٹوں کا نقصان، رضوان بغیر رن کے پویلین واپس
ایرانی حملوں کے اثرات
رپورٹ کے مطابق گزشتہ جمعے ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز نے سعودی عرب میں واقع پرنس سلطان ائیر بیس کو شدید نقصان پہنچایا جس کے نتیجے میں تقریباً ایک درجن امریکی فوجی زخمی ہوئے جبکہ قیمتی فوجی طیارے تباہ ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، 6 دنوں میں 2600 پولیس اہلکاروں کو ٹریفک چالان جاری
بمباری کی تفصیلات
ایران سے 400 میل سے بھی کم فاصلے پر واقع اس اڈے پر شدید بمباری کی گئی جس میں ایک ای 3 AWACS ریڈار طیارہ اور کئی KC35 ری فیولنگ ٹینکرز تباہ ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: آرٹیفیشل انٹیلی جنس گروک نے فوجی تنصیبات پر حملے اور شہداء کی یادگار مسمار کرنے کے عمل کو غداری قرار دیدیا
فوجی حکمت عملی میں تبدیلی کی تجاویز
اخبار کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق سربراہان جن میں جنرل فرینک میکنزی اور جنرل ایرک کوریلا شامل ہیں طویل عرصے سے فوجی حکمت عملی میں تبدیلی کی تجاویز دیتے رہے۔ انہوں نے مغربی سعودی عرب میں مضبوط فوجی اڈوں کا نیٹ ورک قائم کرنے کی تجویز دی تھی تاکہ فوجی اثاثوں کو ایران سے دور منتقل کرکے پیشگی وارننگ کا وقت بڑھایا جا سکے، ایران کی جانب سے اہداف کی نشاندہی کو مشکل بنایا جا سکے اور آبنائے ہرمز جیسے حساس راستے پر انحصار کم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: موجودہ صورتحال میں ہم اپنے اماراتی بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، سفیر پاکستان
حکومتی غفلت
تاہم نہ بائیڈن انتظامیہ اور نہ ہی ٹرمپ انتظامیہ نے ان سفارشات پر عمل کیا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق بائیڈن حکومت چین کے مقابلے کے لیے انڈو پیسیفک خطے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھی۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے بھی اسرائیل کے ساتھ مل کر جنگ کی تیاری کے باوجود مغربی سعودی عرب میں متبادل فوجی نیٹ ورک کو مضبوط بنانے میں ناکامی دکھائی۔
فوری حفاظتی اقدامات
اخبار کے مطابق فوری خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکہ اب جنوبی کیرولائنا میں واقع شا ائیر فورس بیس سے فضائی جنگ کی نگرانی کر رہا ہے جبکہ برطانیہ، اسرائیل اور اردن جیسے اتحادی ممالک سے فضائی مشنز آپریٹ کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، خطے میں اپنے غیر محفوظ اثاثوں کے تحفظ کے لیے امریکہ اب جلد بازی میں پہلے سے تیار شدہ بنکرز حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ آئندہ ایرانی حملوں سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکے۔








