پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے وقار کی بحالی
پاکستان پیپلز پارٹی: ایک نظریاتی تحریک
تحریر: رانا فاروق اشرف
پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) محض ایک سیاسی جماعت نہیں، بلکہ ایک نظریاتی اور عوامی تحریک ہے جس نے ملک کے مرکز یعنی پنجاب کی روح کو ایک نیا شعور عطا کیا تھا۔ جب شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی بار پنجاب کے میدانوں میں قدم رکھا تو انہوں نے محض ووٹ حاصل نہیں کیے، بلکہ بے سہارا اور پسے ہوئے طبقات میں انقلاب کی وہ شمع روشن کی جس نے دہائیوں تک ملکی سیاست کا رخ متعین کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کا شکریہ کہ اس نے ایک ایڈونچر سے پوری پاکستانی قوم کو یکجا کردیا: مصطفیٰ کمال
2026 کی تلخ حقیقت
لیکن 2026 کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ آج یہی صوبہ، بالخصوص وسطی پنجاب، مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری کشمکش میں ایک خاموش تماشائی بن کر رہ گیا ہے۔ اگرچہ موجودہ حالات میں پیپلز پارٹی کے پاس ایک سنجیدہ اور عوامی متبادل کے طور پر ابھرنے کا بہترین موقع موجود تھا، لیکن وسطی پنجاب کی موجودہ قیادت کی فکری پسماندگی اور عوام سے مکمل کٹ جانے کی وجہ سے یہ موقع ضائع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق گورنر سندھ کمال اظفر انتقال کرگئے
تنظیمی مسائل اور قیادت
پنجاب میں پیپلز پارٹی کے زوال کی جڑیں صرف بیرونی سیاسی تبدیلیوں میں نہیں، بلکہ اس کے اپنے تنظیمی ڈھانچے میں لگنے والے اس گھن میں چھپی ہیں جسے "ڈرائنگ روم سیاست" کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ ماضی میں پارٹی کے گراف گرنے کے اسباب پر بحث کی گئی، پیپلز پارٹی نے اپنی "اسٹریٹ پاور" کو "صوفہ پاور" میں تبدیل کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں غلط چالان کے خلاف ایک شخص احتجاج کرتے ہوئے کھمبے پر چڑھ گیا، نیچے اتر کر فیلڈ مارشل عاصم منیر سے محبت کا دعویٰ
عوامی حمایت کا فقدان
جب تک پارٹی کے ڈھانچے کی اوپر سے نیچے تک مکمل سرجری نہیں کی جاتی اور ان غیر فعال چہروں کو ہٹا کر عوامی نبض پر ہاتھ رکھنے والے لیڈر سامنے نہیں لائے جاتے، کارکن کا حوصلہ بحال کرنا ناممکن ہے۔ ایک ایسا جنرل سیکرٹری جو اپنے ضلعی صدور کے لیے بھی ناقابلِ رسائی ہو، وہ تنظیم کا سرتاج نہیں بلکہ اس کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کلائمیٹ فنانسنگ کی مد میں پاکستان کو 20 کروڑ ڈالر زجاری کیے جائیں گے
نوجوانوں کے مسائل اور مطالبات
نوجوانوں کو آج ایک جدید ڈیجیٹل وژن کی ضرورت ہے، جسے "بلاول یوتھ کارڈ" کے ذریعے عملی شکل دی جا سکتی ہے۔ اسی طرح پنجاب کی معیشت کی شہ رگ یعنی کسان کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ صرف پیپلز پارٹی ہی اسے مڈل مین کے استحصال سے بچا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ابوظہبی میں گیس کمپلیکس پر انٹرسیپٹر کا ملبہ گرنے سے آگ بھڑک اٹھی، حبشان گیس تنصیبات کو بند کر دیا گیا
سوشل میڈیا کی اہمیت
سوشل میڈیا اور بیانیے کی اس جدید جنگ میں پیپلز پارٹی کو پنجاب میں ایک ایسی پیشہ ور ٹیم کی ضرورت ہے جو "بھٹو ازم" کو پنجاب کی مقامی ثقافت اور زبان میں ڈھال کر گھر گھر پہنچا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں سیاسی سمت کی تبدیلی، کیا دنیا ایک نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے؟ علی حیدر زیدی
قیادت کے چیلنجز
اب وقت آ گیا ہے کہ مصلحتوں کے لبادے اتار پھینکے جائیں۔ اگر پیپلز پارٹی دوبارہ لاہور کے تخت کی دعویدار بننا چاہتی ہے تو اسے پہلے اپنے گھر کی صفائی کرنی ہوگی۔
خلاصہ
کارکن تیار ہے، نظریہ زندہ ہے، مگر قیادت اور عوام کے درمیان کا پل ٹوٹ چکا ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو چاہیے کہ وہ روایتی بیوروکریٹک سیاست دانوں کو بائی پاس کر کے براہ راست کارکنوں سے "ورکرز کنونشنز" کے ذریعے رابطہ کریں۔ پنجاب کے وقار کی بحالی کے لیے مشکل اور دلیرانہ فیصلے ناگزیر ہیں۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔
اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’[email protected]‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔








