چیف جسٹس کی زیر صدارت قانون و انصاف کمیشن کا اجلاس، ملک بھر میں ویمن فیسلیٹیشن سینٹرز قائم کرنے کا فیصلہ
ویمن فیسلیٹیشن سینٹرز کا قیام
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر کے عدالتی کمپلیکسز میں ویمن فیسلیٹیشن سینٹرز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ تنازع: پاکستان کا مطالبہ تسلیم، آئی سی سی نے میچ ریفری کو تبدیل کردیا،بڑا دعویٰ سامنے آ گیا
اجلاس کی تفصیلات
قانون و انصاف کمیشن کے اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت قانون و انصاف کمیشن کا اجلاس ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل کو چین سے مینوفیکچرنگ کا صرف 10 فیصد باہر لے جانے میں ہی کتنے سال لگ جائیں گے؟
خواتین سہولت مراکز کے ڈیزائن
قانون و انصاف کمیشن کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ خواتین سہولت مراکز کے ڈیزائن کے لیے قومی سطح پر مقابلہ کروایا جائے گا۔ اجلاس میں قومی ڈیزائن مقابلے کے فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر غور کیا گیا۔ خواتین سہولت مراکز میں رازداری اور تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی، جبکہ خواتین کو ایک ہی جگہ متعدد سہولیات فراہم کرنے کی تجویز بھی ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے رجسٹرارز کو انفراسٹرکچر میپنگ کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شدید دھند، موٹروے کو مختلف مقامات سے بند کردیا گیا
محفوظ اور باوقار ماحول
’’جنگ‘‘ کے مطابق وفاقی دارالحکومت سے جاری اعلامیہ کے مطابق خواتین سائلین کو محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کیا جائے گا۔ ویمن فیسلیٹیشن سینٹرز میں قانونی معاونت اور میڈی ایشن کی سہولت ہوگی۔ سینٹرز میں عدالت سے منسلک مصالحت اور خاندانی ملاقاتوں کے انتظامات بھی شامل ہیں۔ سینٹرز میں تشدد سے متاثرہ خواتین کے لیے خصوصی سپورٹ سروسز فراہم کی جائیں گی۔
ڈیزائن کے انتخاب کے مراحل
اعلامیہ کے مطابق انسٹیٹیوٹ آف آرکیٹیکٹس پاکستان جلد قومی مقابلہ شروع کرے گا، ڈیزائن کے انتخاب کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان نے شفافیت اور میرٹ پر مبنی لائحہ عمل بنانے کی ہدایت کی۔ منتخب ڈیزائن ویمن فیسلیٹیشن سینٹرز کے لیے ماڈل قرار دیا جائے گا۔








