فرانسیسی صدر کا ایران جنگ میں کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی اور مذاکرات پر زور
صدر فرانسیسی میکرون کا ایران کے حوالے سے بیان
پیرس (ڈیلی پاکستان آن لائن) فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے ایران سے متعلق جاری کشیدگی کے تناظر میں زور دیا ہے کہ فوری طور پر کشیدگی میں کمی لائی جائے، جنگ بندی کی جائے اور مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ریلوے پولیس نے گھر سے بھاگے 658 لڑکوں، لڑکیوں کو پکڑ کر ورثا کے حوالے کر دیا
سفارتکاری کی اہمیت
عرب نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں صرف سفارتکاری ہی ایک مؤثر راستہ ہے جو دیرپا استحکام کو یقینی بنا سکتی ہے اور خطے میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی کا باعث بن سکتی ہے۔ صدر میکرون نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تصادم کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ خطے کو مزید عدم استحکام سے بچایا جا سکے۔ عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں کرے۔
یہ بھی پڑھیں: ایکوا شریمپ فارمنگ انٹرن شپ پروگرام شروع، نوجوان انٹرنیز کو 6 ماہ کے دوران ماہانہ 50 ہزار روپے وظیفہ ملے گا
سوشل میڈیا پر بیان
#WATCH: #France's President @EmmanuelMacron urges de-escalation, a ceasefire and renewed negotiations in the #IranWar, saying only diplomacy can ensure lasting stability and restore economic activity https://t.co/Il7QsmLt9i pic.twitter.com/qlb87mRQe5
— Arab News (@arabnews) April 2, 2026
یہ بھی پڑھیں: شادی کے سوال پر بلاول بھٹو کا دلچسپ جواب
جنوبی کوریا کے دورے پر اہم باتیں
اس سے قبل جنوبی کوریا کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے ایران کے جوہری پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلے کا حل جنگ کے ذریعے ممکن نہیں بلکہ سفارتکاری اور مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیاں اس کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتیں۔ ان کے مطابق پائیدار حل کے لیے سفارتی اور تکنیکی مذاکرات ناگزیر ہیں۔
خطرات اور چیلنجز
ایمانوئیل میکرون نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل ترتیب نہ دیا گیا تو صورتحال چند ماہ یا چند سال میں دوبارہ سنگین ہو سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے مجوزہ فوجی کارروائی کو بھی غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کسی بھی کارروائی میں طویل وقت درکار ہوگا اور اس میں شامل افواج اور بحری جہازوں کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے پاس جدید وسائل، بیلسٹک میزائل اور مضبوط ساحلی دفاعی نظام موجود ہے، جس کے باعث کسی بھی فوجی آپریشن کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔








