چینی سفیر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، خطے کی صورتحال اور پاک چین تعلقات پر تبادلہ خیال
پاکستان میں چینی سفیر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان میں تعینات چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ نے وفد کے ہمراہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال، امن و امان اور پاک چین دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں
مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات میں خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے حل کے لیے پرامن ذرائع اختیار کیے جائیں۔
سی پیک اور علاقائی امن
ملاقات میں سی پیک اور علاقائی امن و استحکام کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ جمعیت علمائے اسلام اور چین کے درمیان ہم آہنگی خطے کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔
چینی سفیر کا بیان
چینی سفیر جیانگ زیڈونگ نے اس موقع پر کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے عالمی قوانین اور ایران کی قومی خود مختاری کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے فوری جنگ بندی نہ ہونے کی صورت میں مشرق وسطیٰ، یورپ اور پوری دنیا پر معاشی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا۔
جے یو آئی اور چین کے تعلقات
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی پاکستان اور چین کے تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کی خواہاں ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ جماعت ماضی کی طرح آئندہ بھی اپنا کردار ادا کرتی رہے گی اور اس بات پر زور دیا کہ چین کا ہمسایہ ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیر دفاع کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر اہم ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورت حال اور خطے کی مجموعی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں وزیر دفاع نے اہم قومی قوانین پر مولانا فضل الرحمان کو اعتماد میں لینے کی یقین دہانی کروائی۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی پر گفتگو
منگل کے روز اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کے گھر ہونے والی ملاقات کے دوران خطے کی مجموعی صورتحال، پاکستان کی خارجہ پالیسی اور امن و امان کے معاملات پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے حالیہ امریکا ایران کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے مؤثر کردار کو مزید بہتر بنانے پر غور کیا۔
ثالثی کی کوششیں
اس موقع پر پارلیمنٹ میں قانون سازی سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔ ذرائع کے مطابق وزیر دفاع نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں پاکستان کی ممکنہ ثالثی کوششوں سے بھی آگاہ کیا، جس پر دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت پر زور دیا۔








