محمد علی رندھاوا — عوامی خدمت، دیانت اور قیادت کی روشن مثال
تحریر کا تعارف
تحریر : وقار ملک
یہ بھی پڑھیں: سیاست کی خوبصورتی یہ ہے کہ ٹرمپ اور ممدانی ایک دوسرے پر شدید تنقید کے باوجود عوام اور ریاست کے لیے مل کر کام کررہے ہیں، فیاض الحسن چوہان
محمد علی رندھاوا کی شخصیت
محمد علی رندھاوا ایک ایسی باوقار اور متحرک شخصیت کا نام ہے جنہوں نے اپنی محنت، دیانت داری اور خلوصِ نیت سے نہ صرف سرکاری اداروں کو مضبوط کیا بلکہ عوام کے دلوں میں بھی ایک خاص مقام حاصل کیا۔ وہ محض ایک سرکاری افسر نہیں بلکہ ایک ایسی مثال ہیں جو نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور جذبہ خدمت کا ہو تو انسان ہر میدان میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ محمد علی رندھاوا ایک سچے محبِ وطن پاکستانی ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ پاکستانیت کو فروغ دیا اور قوم کو یکجا رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی سوچ میں اتحاد، ترقی اور عوامی فلاح نمایاں نظر آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ کا حکم، خیبر پختونخوا پولیس نے سڑکیں کھلوا دیں
عملی اقدامات اور کامیابیاں
بطور چیئرمین سی ڈی اے، محمد علی رندھاوا نے اسلام آباد کو ایک ماڈل سٹی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کیے۔ شہر کی خوبصورتی، صفائی، اور نظم و ضبط میں نمایاں بہتری ان کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے شہریوں کے مسائل کو ترجیح دی اور ان کے حل کے لیے ہمیشہ اپنے دروازے کھلے رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام انہیں اپنا ہمدرد اور مسیحا سمجھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا سب سے طویل پلیٹ فارم روہڑی اسٹیشن جبکہ دنیا کا سب سے لمبا پلیٹ فارم بھارتی شہر گورکھ پور کا ہے جسکی لمبائی روہڑی سے دو گنا زیادہ ہے۔
انسانیت کی خدمت
ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ انسانیت کی خدمت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ جس شخص نے بھی ان کے دروازے پر دستک دی، وہ کبھی خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹا۔ انہوں نے سول سروس میں ایک ایسے کردار کا مظاہرہ کیا جو ہمیں عظیم انسان دوست شخصیات کی یاد دلاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک کال کریں، پودا اپنے گھر لگوائیں
سیکورٹی اور نظم و ضبط
محمد علی رندھاوا نے نہ صرف انتظامی معاملات کو بہتر بنایا بلکہ اسلام آباد میں جرائم کے خاتمے کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے۔ ان کی قیادت میں ایک ایسا سازگار ماحول پیدا ہوا جس سے حکومت کی ساکھ میں اضافہ ہوا اور عوام کا اعتماد بحال ہوا۔ انہوں نے دن رات محنت کی، یہاں تک کہ آرام سے زیادہ کام کو ترجیح دی، کیونکہ ان کے نزدیک ذمہ داری کو پورا کرنا سب سے اہم تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سورت گڑھ ائیر فیلڈ بھی تباہ کر دی گئی
نئی ذمہ داریاں اور عوام کا ردعمل
وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعظم کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کی لگن اور محنت نے ثابت کیا کہ وہ کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں مزید اہم ذمہ داریاں سونپنے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ ان کی نئی تعیناتی پر اسلام آباد کے شہریوں میں مایوسی پائی جاتی ہے، کیونکہ وہ اپنے ایک مخلص رہنما سے محروم ہو رہے ہیں، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد علی رندھاوا جہاں بھی جائیں گے، اپنی قابلیت اور محنت سے وہاں بھی اپنی پہچان بنائیں گے اور ملک و قوم کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی وزیر خارجہ کا دورۂ روس، اسرائیل سے تعلقات کے حوالے سے صحافی کا سوال، کیا جواب دیا ؟ جانیے
خلاصہ
انہوں نے اپنے کردار اور کارکردگی سے یہ ثابت کیا ہے کہ اصل مقام انسان کو دیا نہیں جاتا بلکہ وہ اپنی محنت سے خود بناتا ہے۔ واقعی شاعر کے یہ اشعار ان پر صادق آتے ہیں:
میں اپنے فن کی بلندیوں سے کام لے لوں گا
مجھے مقام نہ دو، میں اپنا مقام خود بنا لوں گا
زندگی کا مقصد
محمد علی رندھاوا ایک ایسی مثال ہیں جو ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زندگی صرف گزارنے کا نہیں بلکہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا نام ہے۔
واقعی، جیو تو محمد علی رندھاوا کی طرح جیو۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں








