ایران میں گرے ہوئے امریکی پائلٹ کی بازیابی کا خفیہ مشن، سنسنی خیز تفصیلات منظرِ عام پر آگئیں
خطرناک "سرچ اینڈ ریسکیو" آپریشن کی تفصیلات
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران میں مار گرائے جانے والے امریکی لڑاکا طیارے F5E اسٹرائیک ایگل کے لاپتہ پائلٹ کو بچانے کے لیے کیے گئے انتہائی خطرناک اور پیچیدہ "سرچ اینڈ ریسکیو" آپریشن کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ امریکی حکام نے اس مشن کو امریکی تاریخ کے جرات مندانہ ترین آپریشنز میں سے ایک قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاسداران انقلاب کے مطابق ہمارے پاس موجودہ رفتار سے کم از کم چھ ماہ تک جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت ہے
پائلٹ کی حالت اور اس کی مشکلات
سی این این کی رپورٹ کے مطابق طیارہ گرنے کے بعد زخمی امریکی ہوا باز (ویپنز سسٹم آفیسر) نے دشمن کی قید سے بچنے کے لیے ایک پہاڑی دراڑ میں پناہ لی۔ سمندر کی سطح سے 7,000 فٹ بلندی پر واقع سنگلاخ پہاڑیوں میں اس افسر نے ایک دن سے زیادہ وقت گزارا۔ اس کے پاس دفاع کے لیے صرف ایک پستول، ایک مواصلاتی آلہ اور ایک ٹریکنگ بیکن موجود تھا۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے احتجاج کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی، فضل الرحمان
سی آئی اے کا کردار اور دھوکہ دہی کی مہم
اس مشن کی کامیابی میں سی آئی اے (CIA) نے کلیدی کردار ادا کیا جب امریکی کمانڈوز پائلٹ کو تلاش کر رہے تھے، اس وقت انٹیلی جنس آپریٹو نے ایران کے اندر یہ جھوٹی خبر پھیلائی کہ دونوں پائلٹ پہلے ہی بازیابی کے بعد بحفاظت نکالے جا چکے ہیں۔ اس "ڈیپشن کیمپین" کا مقصد ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کو الجھانا تھا جو پائلٹ کی گرفتاری کے لیے سرگرم تھے۔
عمليات کی تفصیلات اور صدر ٹرمپ کی نگرانی
امریکی طیاروں نے اس علاقے میں بمباری کی تاکہ کمانڈوز کے لیے راستہ صاف کیا جا سکے اور ایرانی فوج کو پیچھے دھکیلا جا سکے۔ آپریشن کے دوران امریکہ کے دو اسپیشل آپریشنز طیارے خراب ہوئے، جنہیں ایرانی ہاتھوں میں لگنے سے بچانے کے لیے خود امریکیوں نے ہی دھماکے سے اڑا دیا۔ اسرائیل نے اس مشن کے دوران اپنی فضائی کارروائیاں روک دیں تاکہ سرچ آپریشن میں مداخلت نہ ہو اور انٹیلی جنس مدد بھی فراہم کی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کا پورا دن وائٹ ہاؤس میں اس مشن کی نگرانی کرتے ہوئے گزارا۔








