متحدہ عرب امارات پر منفی بیانیہ، بیس لاکھ پاکستانیوں کے مفاد پر وار
مباحثے کا آغاز
دبئی (طاہر منیر طاہر) متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی صحافیوں کے درمیان ہونے والے اہم مباحثے نے ایک نہایت سنجیدہ سوال کو پھر نمایاں کر دیا ہے کہ کیا یو اے ای کے بارے میں پاکستان میں میڈیا کے بعض حلقوں میں جاری منفی، جذباتی اور سنسنی خیز تجزیے محض ایک رائے ہیں، یا وہ درحقیقت یہاں مقیم بیس لاکھ پاکستانیوں کے مفادات، اعتماد، روزگار اور مستقبل کو متاثر کرنے والی ایک غیر ذمہ دارانہ روش یا سازش بنتے جا رہے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی قیادت جانتی ہے کہ عمران خان کے بیان عاصم منیر کے نہیں بلکہ ریاست کیخلاف ہیں: کوثر کاظمی
سوشل میڈیا پر غیر سنجیدہ طرزِ اظہار
حالیہ دنوں پاکستان میں سوشل میڈیا اور بعض پلیٹ فارمز پر خطے میں کشیدگی اور جنگی ماحول کے تناظر میں غیر سنجیدہ طرزِ اظہار دیکھنے میں آیا۔ خاص طور پر متحدہ عرب امارات کے بارے میں ایسا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جیسے یہاں نظام کمزور پڑ چکا ہو، معیشت آخری سانسیں لے رہی ہو، یا معمولاتِ زندگی شدید بحران کا شکار ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور بھاٹی گیٹ واقعہ: خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ پر تشدد پر وزیرِاعلیٰ پنجاب برہم
صحافیوں کی آراء
باہمی مباحثے میں شریک یو اے ای میں مقیم سینئر پاکستانی صحافیوں نے واضح کیا کہ اس نوعیت کا بیانیہ نہ زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی اسے صحافتی ذمہ داری کے دائرے میں درست قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی کرکٹ بورڈ کو نیا سیکرٹری مل گیا
کہانی کا مختلف زاویے
اس مباحثے میں صدر پی جے ایف طاہر منیر طاہر، صدر پی ایف یو جے یو اے ای خالد ملک، جنرل سیکرٹری پی ایف یو جے یو اے ای اور نمائندہ بول نیوز انصر اکرم، سینئر نائب صدر پی جے ایف اور نمائندہ نیو نیوز سعدیہ عباسی، جبکہ نمائندہ دنیا نیوز اور سینئر صحافتی شخصیت سید مدثر خوشنود نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: اب امریکہ دنیا سے روسی تیل خریدنے کی بھیک مانگ رہا ہے: عباس عراقچی
سعدیہ عباسی کا مؤقف
سعدیہ عباسی نے گفتگو میں اس پہلو کو نمایاں کیا کہ بین الدولتی تعلقات اور مالی معاملات کو جذباتی نعروں کے بجائے سنجیدہ، باوقار اور ذمہ دارانہ تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لوگوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ دینے سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا، مصدق ملک
انصر اکرم کی رائے
انصر اکرم نے اس بحث میں الفاظ کی ذمہ داری کو مرکزی نکتہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اگر بار بار یہ تاثر دیا جائے کہ یو اے ای میں نظام کمزور پڑ گیا ہے، معیشت بیٹھ گئی ہے، یا روزمرہ زندگی بحران میں ہے، تو اس کا براہِ راست اثر یہاں مقیم پاکستانیوں کے ذہنی سکون، سماجی اعتماد اور معاشی تحفظ پر پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپیس ایکس کا مقابلہ، ایمیزون نے بھی انٹرنیٹ سیٹلائٹس خلا میں بھیج دئیے
خالد ملک کی وضاحت
خالد ملک نے زور دیا کہ یو اے ای کے بارے میں ہر رائے کو زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھنا ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روہت شرما نے شاہد آفرید ی کا طویل عرصے سے قائم ورلڈ ریکارڈ توڑ دیا
طاہر منیر طاہر کا قومی تناظر
طاہر منیر طاہر نے اس بحث کو وسیع تر قومی تناظر میں رکھا۔ ان کے مطابق یو اے ای صرف ایک میزبان ملک نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک اہم معاشی، انسانی اور اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بہاولپور میں بھارت نے میزائل حملے میں مسجد کو نشانہ بنا یا، بزدلانہ کارووائی کی تفصیلات سامنے آگئیں
سید مدثر خوشنود کی تنقید
سید مدثر خوشنود نے گفتگو کو محض ردِعمل سے نکال کر ایک اصولی صحافتی اور قومی مؤقف میں ڈھال دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چوہدری شجاعت مسلم لیگ ق کے بلامقابلہ صدر منتخب ہو گئے
حیات کی عمومی صورت حال
انہوں نے واضح کیا کہ بجلی، پانی، صحت، ٹرانسپورٹ، تجارتی مراکز، ایئرپورٹس، سیاحتی سرگرمیاں اور شہری زندگی کا عمومی بہاؤ معمول کے مطابق جاری ہے،
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریک انصاف کا ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم
مباحثہ کا اختتام
مباحثے کے اختتام پر شرکاء کی جانب سے اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ یو اے ای نے موجودہ حالات میں اپنے دفاعی اور انتظامی نظام کے ذریعے جس مستعدی، نظم اور اعتماد کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپیکر نے پنجاب اسمبلی کو ن لیگ کا ذیلی دفتر بنا دیا ہے: شفیع جان کا ملک احمد خان کے بیان پر ردعمل
نتیجہ
مجموعی طور پر یہی نتیجہ سامنے آیا کہ یو اے ای کے بارے میں غیر متوازن، جذباتی اور منفی تجزیہ نہ صرف صحافتی معیار کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ پاکستانی کمیونٹی کے لیے بھی غیر مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
آخری سوچ
آخر میں بات صرف اتنی ہے کہ اس وقت خطے کو شور نہیں، شعور کی ضرورت ہے؛ خوف نہیں، فہم کی ضرورت ہے؛ اور منفی پروپیگنڈا نہیں، ذمہ دارانہ صحافت کی ضرورت ہے۔








