متحدہ عرب امارات پر منفی بیانیہ، بیس لاکھ پاکستانیوں کے مفاد پر وار
مباحثے کا آغاز
دبئی (طاہر منیر طاہر) متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانی صحافیوں کے درمیان ہونے والے اہم مباحثے نے ایک نہایت سنجیدہ سوال کو پھر نمایاں کر دیا ہے کہ کیا یو اے ای کے بارے میں پاکستان میں میڈیا کے بعض حلقوں میں جاری منفی، جذباتی اور سنسنی خیز تجزیے محض ایک رائے ہیں، یا وہ درحقیقت یہاں مقیم بیس لاکھ پاکستانیوں کے مفادات، اعتماد، روزگار اور مستقبل کو متاثر کرنے والی ایک غیر ذمہ دارانہ روش یا سازش بنتے جا رہے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدارتی انتخابات ، ٹرمپ نے ایک اور بڑی کامیابی حاصل کر لی
سوشل میڈیا پر غیر سنجیدہ طرزِ اظہار
حالیہ دنوں پاکستان میں سوشل میڈیا اور بعض پلیٹ فارمز پر خطے میں کشیدگی اور جنگی ماحول کے تناظر میں غیر سنجیدہ طرزِ اظہار دیکھنے میں آیا۔ خاص طور پر متحدہ عرب امارات کے بارے میں ایسا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جیسے یہاں نظام کمزور پڑ چکا ہو، معیشت آخری سانسیں لے رہی ہو، یا معمولاتِ زندگی شدید بحران کا شکار ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: پاك ویلز كار میلہ کراچی۔ رمضان اسپیشل نائٹ ایونٹ کے انعقاد کا فیصلہ، رجسٹریشن شروع
صحافیوں کی آراء
باہمی مباحثے میں شریک یو اے ای میں مقیم سینئر پاکستانی صحافیوں نے واضح کیا کہ اس نوعیت کا بیانیہ نہ زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی اسے صحافتی ذمہ داری کے دائرے میں درست قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیا ریکارڈ قائم، اسٹاک مارکیٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
کہانی کا مختلف زاویے
اس مباحثے میں صدر پی جے ایف طاہر منیر طاہر، صدر پی ایف یو جے یو اے ای خالد ملک، جنرل سیکرٹری پی ایف یو جے یو اے ای اور نمائندہ بول نیوز انصر اکرم، سینئر نائب صدر پی جے ایف اور نمائندہ نیو نیوز سعدیہ عباسی، جبکہ نمائندہ دنیا نیوز اور سینئر صحافتی شخصیت سید مدثر خوشنود نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں سموگ: پنجاب حکومت کا ‘گرین لاک ڈاؤن’ اور بھارت سے ماحولیاتی سفارتکاری کا منصوبہ
سعدیہ عباسی کا مؤقف
سعدیہ عباسی نے گفتگو میں اس پہلو کو نمایاں کیا کہ بین الدولتی تعلقات اور مالی معاملات کو جذباتی نعروں کے بجائے سنجیدہ، باوقار اور ذمہ دارانہ تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کا رواں مالی سال کا 10 کھرب سے زائد کا بجٹ آج پیش کیا جائیگا
انصر اکرم کی رائے
انصر اکرم نے اس بحث میں الفاظ کی ذمہ داری کو مرکزی نکتہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اگر بار بار یہ تاثر دیا جائے کہ یو اے ای میں نظام کمزور پڑ گیا ہے، معیشت بیٹھ گئی ہے، یا روزمرہ زندگی بحران میں ہے، تو اس کا براہِ راست اثر یہاں مقیم پاکستانیوں کے ذہنی سکون، سماجی اعتماد اور معاشی تحفظ پر پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کا قومی دن اوورسیز پاکستانیوں نے بھی جوش و خروش سے منایا
خالد ملک کی وضاحت
خالد ملک نے زور دیا کہ یو اے ای کے بارے میں ہر رائے کو زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھنا ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا تنخواہوں میں اضافہ ہوگا؟ صحافی کے سوال پر اسحاق ڈار نے دوٹوک جواب دیدیا
طاہر منیر طاہر کا قومی تناظر
طاہر منیر طاہر نے اس بحث کو وسیع تر قومی تناظر میں رکھا۔ ان کے مطابق یو اے ای صرف ایک میزبان ملک نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک اہم معاشی، انسانی اور اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ؛بانی اور بشریٰ بی بی کا توشہ خانہ ٹو کیس کا ٹرائل رکوانے کیلئے عدالت سے رجوع
سید مدثر خوشنود کی تنقید
سید مدثر خوشنود نے گفتگو کو محض ردِعمل سے نکال کر ایک اصولی صحافتی اور قومی مؤقف میں ڈھال دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
حیات کی عمومی صورت حال
انہوں نے واضح کیا کہ بجلی، پانی، صحت، ٹرانسپورٹ، تجارتی مراکز، ایئرپورٹس، سیاحتی سرگرمیاں اور شہری زندگی کا عمومی بہاؤ معمول کے مطابق جاری ہے،
یہ بھی پڑھیں: ایران کے 9 بیلسٹک، 6 کروز میزائل اور 148 ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، اماراتی وزارت دفاع
مباحثہ کا اختتام
مباحثے کے اختتام پر شرکاء کی جانب سے اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ یو اے ای نے موجودہ حالات میں اپنے دفاعی اور انتظامی نظام کے ذریعے جس مستعدی، نظم اور اعتماد کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کے مختلف محکموں کو اربوں روپے کا چونا لگائے جانے کا انکشاف
نتیجہ
مجموعی طور پر یہی نتیجہ سامنے آیا کہ یو اے ای کے بارے میں غیر متوازن، جذباتی اور منفی تجزیہ نہ صرف صحافتی معیار کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ پاکستانی کمیونٹی کے لیے بھی غیر مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
آخری سوچ
آخر میں بات صرف اتنی ہے کہ اس وقت خطے کو شور نہیں، شعور کی ضرورت ہے؛ خوف نہیں، فہم کی ضرورت ہے؛ اور منفی پروپیگنڈا نہیں، ذمہ دارانہ صحافت کی ضرورت ہے۔








