ٹرمپ کی متنازعہ پوسٹ پر امریکی سیاستدان برس پڑے، صدر کو نااہل قرار دے دیا
ٹرمپ کے نازیبا بیان پر عالمی اور داخلی ردعمل
نیویارک(ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ روز ایران کے خلاف نازیبا اور دھمکی آمیز بیان نے نہ صرف عالمی سطح پر ہلچل مچا دی بلکہ خود امریکا کے اندر بھی شدید ردعمل کو جنم دے دیا ہے جہاں اہم سیاستدانوں نے صدر کے ذہنی توازن پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: شاہراہ دستور پر گاڑی کی سکوٹی کو ٹکر، 2 خواتین جاں بحق
سینیٹ میں اپوزیشن کا ردعمل
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق امریکی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر چک شومر نے ٹرمپ کے بیان کو ایک بے قابو پاگل شخص کی بڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر سوشل میڈیا پر جنگی جرائم کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور اتحادیوں کو دور کر رہے ہیں جو امریکا کے وقار کے لیے نقصان دہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریل گاڑی جب گزرتی تو یہ”بزرگ سا پُل“ تھرتھرانے لگتا اور ہچکولے لیتا، یہاں گاڑی کی رفتار انتہائی کم کرکے اسے 12 کلومیٹر پر چلایا جاتا
سینیٹرز کی جنگ کے خاتمے کی اپیل
اسی طرح سینیٹر بیرنی سینڈرز نے ٹرمپ کے بیان کو خطرناک اور ذہنی طور پر غیر متوازن قرار دیتے ہوئے کانگریس سے فوری مداخلت اور جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ماہ قبل شروع کی گئی جنگ نے پہلے ہی ہزاروں جانیں لے لی ہیں اور مزید تباہی کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغان وزیر تجارت بھارت پہنچ گئے، دونوں ملکوں کی تجارتی روابط بڑھانے کی کوششیں
کابینہ کے اندر اختلافات
امریکی سینیٹر کرس مرفی نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کابینہ میں ہوتے تو آئین کی 25ویں ترمیم پر غور شروع کر دیتے جو صدر کو عہدے کے لیے نااہل قرار دینے کا راستہ فراہم کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیوٹن سے خوش نہیں، پاگل ہوچکا، روس پر مزید پابندیاں لگائیں گے: ٹرمپ
مرجوری ٹیلر گرین کی مخالفت
ریپبلکن رہنما مرجوری ٹیلر گرین جو کبھی ٹرمپ کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی تھیں اب کھل کر مخالفت میں آ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ پاگل ہو چکے ہیں اور ان کی پالیسیاں نہ صرف امریکی عوام بلکہ دنیا بھر کے معصوم لوگوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
ایرانی حکومت کا موقف
دوسری جانب ایرانی صدارتی دفتر کے ترجمان مہدی طباطبائی نے واضح کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز اسی صورت کھولے گا جب جنگی نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا جبکہ ٹرمپ کی دھمکیوں اور غیر مہذب الفاظ کو انہوں نے مایوسی اور غصے کا اظہار قرار دیا۔








