گزشتہ 24 گھنٹوں میں 15 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں، ایرانی میڈیا
بحری جہازوں کی آمد و رفت
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں ایران کی اجازت سے 15 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو پنجاب اسمبلی میں داخلے کی اجازت مل گئی، ذرائع
بحری ٹریفک کی صورتحال
فارس کی خبر کے مطابق، بحری ٹریفک اب بھی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں 90 فیصد کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے مسلم لیگ (ق) کے صوبائی صدر انتخاب خان چمکنی کی ملاقات
ایرانی حکام کی وضاحت
ایرانی حکام، جن میں وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں، بارہا کہہ چکے ہیں کہ جہاز رانی کی یہ اہم گزرگاہ ’بند نہیں‘، بلکہ صرف ’دشمن ممالک‘ کے لیے بند ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اہم سپن باولر کو بنگلہ دیش نے کوچ بنا دیا
عراق کے لیے استثنیٰ
مثال کے طور پر، ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ عراق ان تمام پابندیوں سے مستثنی ہے جو دیگر ممالک پر عائد کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آج 7ویں بار مجھے عمران خان سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی، 3 ججز کے حکم پر ایس ایچ او کہتا ہے میں نے آرڈر نہیں دیکھا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
نئی فیس کے نفاذ کا امکان
ادھر ایرانی حکام اور قانون سازوں نے آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے بحری جہازوں پر ٹرانزٹ فیس یا ٹول ٹیکس عائد کرنے کے امکان کا بھی ذکر کیا ہے۔
ٹرانزٹ فیس کا مقصد
اس سے قبل ایرانی صدر کے ایک مشیر نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز ’تب دوبارہ کھولی جائے گی‘ جب ’ٹرانزٹ فیس کا ایک حصہ جنگ سے ہونے والے تمام نقصانات کے ازالے کے لیے استعمال کیا جائے گا‘۔








