قانون سازی کے لیے عدالت سے اجازت کیوں مانگ رہے ہیں؟ وفاقی آئینی عدالت کا گلگت بلتستان کو مجوزہ قانون سازی کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم

اسلام آباد میں آئینی عدالت کا حکم

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے گلگت بلتستان کو مجوزہ قانون سازی کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیدیا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہاکہ قانون سازی کے لیے عدالت سے اجازت کیوں مانگ رہے ہیں، پارلیمنٹ کی بحث عدالت میں ہو تو نیا پنڈورا باکس کھل جائے گا، حکومت پہلے کہتی تھی کہ عدالتیں مداخلت کرتی ہیں، اب خود مقدمات لا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: افواج پاکستان کی توہین پر مزاح نگار انور مقصود کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست جمع کرا دی گئی

سینئر سیاستدانوں سے مشاورت

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہاکہ قانون سازی کے لیے سینئر سیاستدانوں سے مشاورت کریں، قانون سازی کے لیے عدالت سے اجازت کیوں مانگ رہے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل کمپلیکس حملے میں 8 کلو تک بارودی مواد اور بال بیرنگز استعمال کئے گئے، آئی جی اسلام آباد

عدالت کی رائے اور حکومت کی ذمہ داری

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہاکہ حکومت قانون سازی کرنے کی مجاز ہے، سپریم کورٹ فیصلے کی روشنی میں حکومت کو اجازت درکار ہے، جسٹس روزی خان نے کہاکہ یہ سیاسی ایشو ہے، حکومت خود حل کرے، عدالت نے کہاکہ پارلیمنٹ کی بحث عدالت میں ہو تو نیا پنڈورا باکس کھل جائے گا۔

قانون سازی کی تجویز

جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہاکہ حکومت پہلے ہی کہتی ہے کہ عدالتیں مداخلت کرتی ہیں، حکومت اب خود ایسے مقدمات لے کر آ رہی ہے، قانون سازی کی مجوزہ تجویز کیا ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ چیف جج اور دیگر ججز کی پنشن کو قانون میں شامل کرنا چاہتے ہیں، چیف جج اور ججز کی پنشن قانون میں نہیں ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...