دریائے نیلم کا پانی ریسٹورنٹ کی دیواروں کو چھوتا بہتا ہے۔ لگتا تھا کوئی مہان موسیقار ”راگ نیلم“گا رہا تھا جس کے سر دھیرے دھیرے دماغ کو مد ہوش کرتے ہیں۔

مصنف کی تعارف

مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 490

یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم میں تکنیکی غلطی کوئی نہیں ہے، قومی اسمبلی کے ایوان میں دو تین اچھی تجاویز دی ہیں اس پر بات ہو رہی ہے، اعظم نذیر تارڑ۔

نیلم ویلی کا سفر

اگلے روز ہمیں کشمیر کی جنت "نیلم ویلی" جانا تھا۔ راستے میں پراجیکٹ منیجر مرکز "کھوڑی" نعمان اعوان نے "پٹیکا" کے پر فضاء مقام پر دریائے نیلم کے کنارے شاندار ریسٹورنٹ میں کشمیری کھانوں سے ہماری تواضع کی گئی۔ کھانا لذت اور کشمیری روایات کے قریب تھا۔ دریائے نیلم کا پانی اس ریسٹورنٹ کی دیواروں کو چھوتا بہتا ہے۔ لگتا تھا کوئی مہان موسیقار "راگ نیلم" گا رہا تھا جس کے سر دھیرے دھیرے دماغ کو مد ہوش کر تے تھے۔ یقین کریں اگر وقت ہو تو کوئی بھی موسیقی کا دلداہ یہاں سے اٹھنے کا نام ہی نہ لے۔

یہ بھی پڑھیں: بہاولپور: ایم 5 موٹر وے پر بس کی پولیس موبائل کو ٹکر سے 3 اہلکار جاں بحق

یونین کونسلز کا وزٹ

راستے میں ہم نے 2 یونین کونسلوں کا وزٹ کیا تاکہ اس کے مسائل سے مکمل آگاہی ہو سکے۔ راستے میں دس بیس کلو میٹر گاڑی میں نے بھی چلا کر ڈرائیونگ کا شوق پورا کیا۔ ویسے "سواریوں" سے بھری گاڑی چلانا مشکل ہر گز نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پہلا جزیرہ اور گھوڑے کے لیے خوفناک صورتحال

اٹھ مقام سے کیرن تک

بعد از دوپہر "اٹھ مقام" پہنچے۔ کچھ دیر کنڈل شاہی رک کر "کیرن" روانہ ہوگئے جہاں نیلم کنارے شام کی چائے کا لطف زندگی بھر نہیں بھولاجا سکتا۔ کیرن دریائے نیلم کے ایک کنارے پاکستان اور دوسرے کنارے بھارت ہے۔ کئی جگہ پر ان دشمن ممالک کی آبادیاں ایک دوسرے سے ہاتھ ملنے کی دوری پر ہیں۔ اس مقام پر دریا پرسکون اور پھیلا ہوا سر سبز پہاڑوں کے سائے میں بہتا شاندار نظارہ ہے۔ ہوا تازہ، خوشبو سے رچی جنت کی ہوا ہی تھی۔ ہم دیر تک دریا کنارے بیٹھے پرسکون نیلم کو پہاڑوں کے سائے میں بہتا دیکھتے رہے اور گرم گرم چائے کے پیالے سے لطف اندوز ہوتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں: اہل خانہ سے 40 لاکھ کی وصولی، سی سی ڈی انسپکٹر تاجر کی اغوا واردات کا ماسٹر مائنڈ نکلا

کتن ریسٹ ہاؤس میں قیام

شام کی مدہوشی میں مغرب سے کچھ پہلے ہم اٹھ مقام سے "جاگران" نالے کے ساتھ ساتھ سفر کرتے پہاڑوں میں گھرے "کٹن" ریسٹ ہاؤس چلے آئے۔ دراصل یہ اُس سویڈیش فرم کے افسران کی رہائش گاہیں تھیں جنہوں نے جاگران نالے پر آزاد کشمیر پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت تیس (30) کلو واٹ کا پاور ہاؤس تعمیر کیا تھا۔ یہاں کچھ سنگل رومز اور کچھ فیملی accommodation ہیں۔ ہمارے لئے ایک فیملی رہائش بک تھی۔ رات ہم نے مرغ کڑاہی اور کھیر کھائی۔ خوب گپ سچ رہی۔ قمر نے لطیفے سنا سنا کر پیٹ میں درد کرا دیا۔ "طفل طفلیا" والے لطیفہ تو ماسٹر پیس تھا۔ اگلے روز یہ سڈی ٹور اختتام پذیر ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: نہ صوبائی کنٹرول اور نہ ہی وفاقی کنٹرول، کراچی کا اختیار صرف کراچی کے شہریوں کے پاس ہونا چاہیے، حافظ نعیم الرحمان

ٹور کی رپورٹ

ٹور رپورٹ لکھنے کی ذمہ داری طاہر ضیاء اور طارق شیخ کی تھی جو انہوں نے خوش اسلوبی سے انجام دی۔ باقی دوستوں نے مل کر تربیت کا "میڈیول" (Module) ترتیب دیا جو پنجاب اور آزاد کشمیر حکومت کو بجھوا دیا۔ افسوس ہماری محنت سیاست کی نذر ہو گئی کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت بن گئی اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی۔ عجیب منطق تھی کہ حکومت کی تبدیلی تربیت پر اثر انداز ہو گئی۔ عدم برداشت کا ایک اور ثبوت۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی اجلاس کا اعلامیہ جاری

محکمہ بلدیات کی بھرتیاں

محکمہ بلدیات پنجاب میں آخری بار افسران کی بھرتی 1989ء میں ہوئی تھی۔ عرصۂ دراز سے محکمہ کو جوان خون کی ضرورت تھی کہ پرانے افسر زنگ آلود ہو نے لگے تھے یا ہو چکے تھے۔ نیا خون کسی بھی محکمے میں جان ڈالتا ہے کہ ان کی انرجیز اور علم جوان ہوتا ہے اور پرانے لوگوں کے تجربے کے ساتھ مل کر بوڑھوں کو توانائی بخشتا اور محکمانہ سوچ و فکر میں نئی جہت لاتا ہے۔ کئی افسر ریٹائر ہو چکے تھے۔ کچھ بہتر آپشنز دیکھ کر دوسرے محکموں میں چلے گئے تھے، یوں بہت سی اسامیاں خالی تھیں۔ افسران کا قحط پڑا تھا۔ ایک ایک افسر کے پاس دو دو عہدوں کا چارج تھا۔ جس عہدے پر attraction زیادہ ہوتی افسر کی توجہ بھی وہاں زیادہ ہوتی۔ ویسے بھی اڈہاک ازم پر گزارا تو ہو سکتا ہے مثبت سوچ اور بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ 26 سال بعد 2015ء میں نئے افسران کی بھرتی کا اشتہار آیا تو ہم بابوں کے لئے بڑی خوشی کا دن تھا۔ ہم نے پچیس ستائیس سال میں محکمہ کو اپنے پسینہ کی خوشبو سے سنیچا تھا اس کی آبیاری کے لئے نیا خون رگوں میں اتارنا ضروری تھا۔

نوٹ

(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...