پنجاب کے ایک ڈویژن میں منشیات کے مقدمات میں گرفتار 186 ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں، لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائیکورٹ کی کارروائی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے منشیات فروشی کے مقدمات میں گرفتار ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے کے واقعات پر گوجرانوالہ کے ریجنل پولیس افسر (آر پی او) خرم شہزاد کی سرزنش کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صائم ایوب نے عمر اکمل کا سب سے زیادہ صفر پر آؤٹ ہونے کا ریکارڈ برابر کر دیا
سماعت کا آغاز
پاکستان 24 کے مطابق پیر کو آر پی او خرم شہزاد عدالت میں پیش ہوئے تو جسٹس علی ضیاء باجوہ نے اُن سے کہا کہ گوجرنوالہ ڈویژن میں 186 گرفتار ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹیں۔
جسٹس باجوہ نے پولیس افسر سے کہا کہ آپ نے آنکھیں بند کرلیں، ہماری آنکھیں بند نہیں ہوتیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں اس وقت ایچ آئی وی کے 84 ہزار افراد زیر علاج ہیں، فی مریض سالانہ تقریباً 300 سے 500 امریکی ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں، مصطفیٰ کمال
آر پی او کی یقین دہانی
گوجرنوالہ کے علاقائی پولیس افسر نے اپنے ڈویژن میں منشیات فروشی کے مقدمات میں گرفتار ملزمان کی ٹانگیں نہ ٹوٹنے کی یقین دہانی کرائی۔
یہ بھی پڑھیں: امیر ریاستوں کے راجے مہاراجے چھوٹی پٹریاں بچھا کر ان پر ننھی منی ریل گاڑیاں دوڑاتے تھے جس پر ان کی ریاست کا نام کندہ ہوتا تھا۔
ججوں کے سوالات
جسٹس فاروق فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سماعت کی۔ منشیات فروشی کے مقدمے میں گرفتار ملزم ابوبکر نے بعد از گرفتاری درخواست ضمانت کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ سماعت کے دوران ججز نے پولیس افسر سے پوچھا کہ کیا ان ملزمان کو ایک ہی وقت گرفتار کیا گیا، ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں نئے سال کی سالانہ چھٹیوں کا اعلان کردیا گیا
جائزہ کی ہدایت
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے پوچھا کہ گوجرانوالہ ڈویژن میں کتنے ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے کے واقعات ہوئے ہیں۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ گوجرنوالہ ڈویژن میں 186 ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے کے واقعات ہوئے ہیں۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ گوجرانوالہ ضلع میں 158، گجرات میں دو، منڈی بہاول دین میں چار ایسے واقعات سامنے آئے۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات کی میز کبھی نہیں چھوڑی مگر اس وقت فوکس اسرائیلی جارحیت سے نمٹنے پر ہے: ایرانی وزیر خارجہ
پولیس افسر کی ذمہ داری
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دیئے کہ منشیات کے ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے والا مسئلہ گوجرنوالہ ہی کا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ نیا میکنزم ہے جو انہوں نے بنایا ہوا ہے؟ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے جواب دیا کہ کسی کیس میں کسی کے گرنے اور ٹانگیں ٹوٹنے کی شکایت نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں: ایس پی عدیل اکبر کی نماز جنازہ پولیس لائنز میں ادا
آئندہ کی یقین دہانی
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے پولیس افسر سے کہا کہ یہ اُن کی ذمہ داری ہے، وہ سپروائزری آفیسر ہیں۔ اگر لوگوں کی ٹانگیں ٹوٹ رہی ہیں تو اس معاملے کا جائزہ لینا چاہیے۔ آر پی او گوجرنوالہ نے بتایا کہ جو بھی اس طرح کا معاملہ آتا ہے، اس کی انکوائری وہ خود کرتے ہیں۔
عدالتی فیصلے
عدالتی بینچ نے گوجرانوالہ کے پولیس افسر سے کہا کہ اُن کو یہ معاملہ خود دیکھنا ہوگا، اگر کوئی ملوث ہوگا تو قانون اپنا راستہ بنائے گا۔
وکیل صفائی نے بتایا کہ اس کیس میں ملزم کی گرفتاری کی ویڈیو نہیں بنائی گئی، گواہان پولیس والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے بنیاد مقدمہ بنایا گیا۔
عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ملزم کی درخواست ضمانت خارج کر دی۔ جسٹس فاروق حیدر نے پولیس افسران سے کہا کہ ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے کے معاملے پر بھی عدالت آرڈر جاری کرے گی۔








