پنجاب کے ایک ڈویژن میں منشیات کے مقدمات میں گرفتار 186 ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹ گئیں، لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائیکورٹ کی کارروائی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے منشیات فروشی کے مقدمات میں گرفتار ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے کے واقعات پر گوجرانوالہ کے ریجنل پولیس افسر (آر پی او) خرم شہزاد کی سرزنش کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ارجیت سنگھ کی گلوکاری چھوڑنے کی وجہ سامنے آگئی۔
سماعت کا آغاز
پاکستان 24 کے مطابق پیر کو آر پی او خرم شہزاد عدالت میں پیش ہوئے تو جسٹس علی ضیاء باجوہ نے اُن سے کہا کہ گوجرنوالہ ڈویژن میں 186 گرفتار ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹیں۔
جسٹس باجوہ نے پولیس افسر سے کہا کہ آپ نے آنکھیں بند کرلیں، ہماری آنکھیں بند نہیں ہوتیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہالی ووڈ کے معروف ہدایتکار اپنی اہلیہ سمیت گھر میں مردہ پائے گئے
آر پی او کی یقین دہانی
گوجرنوالہ کے علاقائی پولیس افسر نے اپنے ڈویژن میں منشیات فروشی کے مقدمات میں گرفتار ملزمان کی ٹانگیں نہ ٹوٹنے کی یقین دہانی کرائی۔
یہ بھی پڑھیں: فضا علی کی ندا پر تنقید؛ یاسر نواز بیوی کے دفاع میں سامنے آگئے، ویڈیو وائرل
ججوں کے سوالات
جسٹس فاروق فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سماعت کی۔ منشیات فروشی کے مقدمے میں گرفتار ملزم ابوبکر نے بعد از گرفتاری درخواست ضمانت کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔ سماعت کے دوران ججز نے پولیس افسر سے پوچھا کہ کیا ان ملزمان کو ایک ہی وقت گرفتار کیا گیا، ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے پی کی ملاقات کافی تناؤ والی رہی: مزمل اسلم
جائزہ کی ہدایت
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے پوچھا کہ گوجرانوالہ ڈویژن میں کتنے ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے کے واقعات ہوئے ہیں۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ گوجرنوالہ ڈویژن میں 186 ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے کے واقعات ہوئے ہیں۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ گوجرانوالہ ضلع میں 158، گجرات میں دو، منڈی بہاول دین میں چار ایسے واقعات سامنے آئے۔
یہ بھی پڑھیں: محرم الحرام میں سیکیورٹی کے لیے اہم اجلاس، فیلڈ میں متحرک ہونے کے حوالے سے اہم فیصلہ
پولیس افسر کی ذمہ داری
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دیئے کہ منشیات کے ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے والا مسئلہ گوجرنوالہ ہی کا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ نیا میکنزم ہے جو انہوں نے بنایا ہوا ہے؟ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے جواب دیا کہ کسی کیس میں کسی کے گرنے اور ٹانگیں ٹوٹنے کی شکایت نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹی ٹوینٹی میچ شروع ہی نہ ہو سکا
آئندہ کی یقین دہانی
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے پولیس افسر سے کہا کہ یہ اُن کی ذمہ داری ہے، وہ سپروائزری آفیسر ہیں۔ اگر لوگوں کی ٹانگیں ٹوٹ رہی ہیں تو اس معاملے کا جائزہ لینا چاہیے۔ آر پی او گوجرنوالہ نے بتایا کہ جو بھی اس طرح کا معاملہ آتا ہے، اس کی انکوائری وہ خود کرتے ہیں۔
عدالتی فیصلے
عدالتی بینچ نے گوجرانوالہ کے پولیس افسر سے کہا کہ اُن کو یہ معاملہ خود دیکھنا ہوگا، اگر کوئی ملوث ہوگا تو قانون اپنا راستہ بنائے گا۔
وکیل صفائی نے بتایا کہ اس کیس میں ملزم کی گرفتاری کی ویڈیو نہیں بنائی گئی، گواہان پولیس والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے بنیاد مقدمہ بنایا گیا۔
عدالت نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ملزم کی درخواست ضمانت خارج کر دی۔ جسٹس فاروق حیدر نے پولیس افسران سے کہا کہ ملزمان کی ٹانگیں ٹوٹنے کے معاملے پر بھی عدالت آرڈر جاری کرے گی۔








