حکومت نے آئی ایم ایف کو گورننس اور اینٹی کرپشن اصلاحات تیز کرنے کی یقین دہانی کرا دی
حکومت کی آئی ایم ایف سے اصلاحات کی یقین دہانی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے آئی ایم ایف کو گورننس اینڈ اینٹی کرپشن اصلاحات تیز کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔ مالی جرائم کی تحقیقات کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بہتر بنانے، سرکاری افسران کے اثاثے دسمبر 2026 تک پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، بینکوں کو سرکاری افسران کے اثاثوں تک رسائی دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی نے پی سی بی میں بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ کر لیا ، نیا سی او او کون ہو گا ؟ بڑا دعویٰ
سرکاری افسران کے اثاثوں کی شفافیت
نجی ٹی وی سماء نیوز نے دستاویز کے حوالے سے بتایا ہے کہ مالی جرائم کی تحقیقات کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بہتر بنانے کا عزم ہے، ساتھ ہی سرکاری افسران کے اثاثے دسمبر 2026 تک عوامی سطح پر پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سرکاری افسران کے اثاثے ڈیجیٹل طور پر جمع کرنے کا نظام بھی بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت کو ٹیرف بڑھانے کی دھمکی دے دی
بین الاقوامی معاہدوں میں بہتری
لوٹی گئی دولت کو بیرون ملک سے واپس لانے کے لیے عالمی معاہدوں میں بہتری کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ منجمد، ریکور شدہ اور واپس لائی جانے والی دولت کا ڈیجیٹل ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی بورڈ آف ریونیو نے گریڈ 17 اور 18 کے تمام افسروں سے اثاثوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔
کرپشن کی روک تھام کے اقدامات
ایسٹ ریکوری اور منیجمنٹ یونٹس کو مضبوط بنایا جائے گا۔ ایف بی آر اثاثوں کے جمع کروانے کے لیے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنائے گا۔ مزید برآں، کرپشن کے خطرات کم کرنے کے لیے 10 بڑے محکموں کی نشاندہی کی جائے گی۔ مشکوک مالی ٹرانزیکشنز کی رپورٹنگ کے معیار اور تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ کرپشن کے خلاف ایکشن پلان اکتوبر 2026 تک تیار کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: جب بھی میں سرد راتوں کو لحاف اٹھانے جاتی ہوں۔۔۔
آئی ایم ایف کے سامنے اصلاحات کی رپورٹنگ
دستاویز کے مطابق، آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی گئی کہ حکومت ہر 6 ماہ بعد اصلاحات کی رپورٹ جاری کرے گی۔ نیب کو مزید خودمختاری دی جائے گی، اور اس سال کرپشن کے حوالے سے نیشنل رسک اسیسمنٹ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: دسمبر کے دوسرے ہفتے میں “بریک تھرو” کا امکان ہے
نیب کے بہتری کے اقدامات
نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، آڈیٹر جنرل، ایس ای سی پی سمیت دیگر ادارے اینٹی منی لانڈرنگ اور کاؤنٹر ٹیرر فنانسنگ اتھارٹی کے تحت ایک ٹاسک فورس قائم کریں گے۔ حکومت نیب چیئرمین کی تعیناتی کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کا فیصلہ بھی کیا ہے، اور نیب کے قواعد اور کارکردگی کی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جائے گی۔
منی لانڈرنگ کے خلاف سخت اقدامات
مانی لانڈرنگ سے متعلق تحقیقات اور سزاؤں کے طریقہ کار کو بھی مضبوط کیا جائے گا۔








