پنجاب میں سابق بیوروکریٹ طارق رحمانی کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے نئے یونٹ کا قیام، گریڈ 22 کے برابر 11 لاکھ 37 ہزار ماہانہ ملیں گے، ڈان کا دعویٰ۔
صوبائی حکومت کا نئی تقرری کا فیصلہ
لاہور( ویب ڈیسک) محکمہ صحت پنجاب نے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے ایک بیوروکریٹ کو بھاری 'پیکج' پر ایک نئے قائم کردہ یونٹ پروجیکٹ امپلیمینٹیشن یونٹ (PIU) میں پراجیکٹ ڈائریکٹر مقرر کر دیا ہے، جو کہ “نرسنگ اور الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کی استعداد کار میں اضافہ” کے منصوبے کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ روزنامہ ڈان میں شائع آصف چوہدری کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ (حالانکہ) یہ شعبہ بنیادی طور پر پہلے سے فعال طبی تعلیمی اداروں کا دائرۂ اختیار سمجھا جاتا ہے، نہ کہ کسی انتظامی پس منظر رکھنے والے افسر کا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی؛ ٹرنک سے سرکٹی لاش ملنے کا واقعہ، بہنوئی کو قتل کرنیوالا سالا گرفتار
مالی بحران کے دوران نئی تقرری
رپورٹ کے مطابق یہ تقرری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حکومت مالی بحران کے باعث کفایت شعاری مہم چلا رہی ہے۔ جبکہ متعلقہ حلقوں نے اسے اعلیٰ حکام کے 'منظورِ نظر شخص' کی تقرری قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ چند روز میں ملک کے بیشتر علاقے گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے:محکمہ موسمیات
تنخواہ اور تقرری کی تفصیلات
رپورٹ کے مطابق محکمۂ صحت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق "ڈیپارٹمنٹل سلیکشن کمیٹی کی سفارشات اور تقرری کی پیشکش کی منظوری کے بعد، مسٹر طارق محمود کو ‘نرسنگ و الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کی استعداد کار میں اضافہ’ کے منصوبے کے تحت پروجیکٹ امپلیمینٹیشن یونٹ کا پروگرام ڈائریکٹر مقرر کیا جاتا ہے، جنہیں ماہانہ 11,37,500 روپے مجموعی تنخواہ دی جائے گی۔”
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سے متعلق بھارتی میڈیا کا ایک اور جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب ہو گیا
تنقید اور اعتراضات
رپورٹ کے مطابق اس تقرری پر اس وقت تنقید میں اضافہ ہوا جب یہ بات سامنے آئی کہ متعلقہ شعبہ اور عہدہ دراصل یونیورسٹیوں اور کالجوں کا دائرہ کار ہے، جو 2007 سے یہ پروگرامز چلا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک متعلقہ افسر کے مطابق یہ عہدہ اور پروگرام بنیادی طور پر اُن صحت کے ماہرین کے لیے مختص ہے جن کے پاس پی ایچ ڈی، ایم فل یا دیگر متعلقہ تعلیمی قابلیت ہو۔ انہوں نے کہا کہ نرسنگ اور الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کی استعداد کار میں اضافہ کسی بیوروکریٹ کا نہیں بلکہ طبی جامعات، کالجوں اور تدریسی اداروں کا کام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی ایس پی عثمان حیدر کی بیوی اور بیٹی کی گمشدگی کا معمہ حل، ملزم نے قتل کا اعتراف کرلیا۔
تعلیمی پروگرامز کا جائزہ
رپورٹ کے مطابق "فی الوقت یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (UHS) نرسنگ اور ہیلتھ پروفیشنلز کی استعداد کار بڑھانے کے لیے 20 پروگرامز پیش کر رہی ہے، جن میں سے دو پانچ سالہ جبکہ 18 چار سالہ پروگرامز ہیں، جو اعلیٰ تربیت یافتہ اساتذہ کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔”
رپورٹ کے مطابق افسر کے مطابق UHS سے منسلک 44 سرکاری و نجی میڈیکل کالجز بھی یہی پروگرامز چلا رہے ہیں، جبکہ اس کے علاوہ پانچ دیگر سرکاری میڈیکل یونیورسٹیاں بھی اسی شعبے میں خدمات فراہم کر رہی ہیں، جن میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی، فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی، نشتر میڈیکل یونیورسٹی اور راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا ؟
نئی تقرری پر عوامی وسائل کا ضیاع
رپورٹ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ان اداروں کے ہوتے ہوئے ایک نیا یونٹ قائم کرنا عوامی وسائل کے ضیاع اور ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ کو 'ایڈجسٹ' کرنے کی کوشش سمجھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: Peshawar High Court Returns Petition to Remove KP Chief Minister with Objections
سابقہ تجربات کا حوالہ
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ مسٹر طارق محمود پنجاب اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں اسپیشل سیکریٹری رہ چکے ہیں اور سیکریٹری صحت کے قریبی سمجھے جاتے ہیں، تاہم ان کا تعلیمی امور سے کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ زیادہ تر تبادلوں، تقرریوں اور ترقیوں کے معاملات دیکھتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دپیکا نے بیٹی کا نام اور تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کردی
سپریم کورٹ کا فیصلہ اور موجودہ صورتحال
انہوں نے 2018 میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں اٹھائے گئے ایک اسی نوعیت کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت عدالت نے پنجاب حکومت کی جانب سے اسٹریٹجک مینجمنٹ یونٹ کے قیام اور غیر متعلقہ افراد کی تقرری پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا اور ان تقرریوں کو انصاف کے تقاضوں کے خلاف قرار دیا تھا۔
افسر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محکمۂ صحت کے اعلیٰ حکام نے ایک بار پھر وہی غیر منطقی اقدام دہرایا ہے۔
حکومتی ترجمان کا عدم جواب
ڈان نیوز کے مطابق اس حوالے سے محکمۂ صحت کے ترجمان اور وزیر صحت سے موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔








