سعودی عرب نے صنعتی تنصیبات پر حملے کا جواب دیا تو پاکستان بھی گھسیٹا جا سکتا ہے، سیکیورٹی عہدیدار کی روئٹرز سے گفتگو
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کرانے کی کوششیں تاحال جاری ہیں، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ان کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستانی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران پر حملوں میں شدت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی سخت ڈیڈ لائن کے باعث صورتحال نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 1929ء میں بنے والٹن ٹریننگ سکول کی شہرت جلد بیرون ملک جا پہنچی وہاں کے ریلوے محکموں نے بھی اپنا عملہ تربیت کیلیے یہاں بھجوانا شروع کر دیا
سعودی عرب میں حملے کے اثرات
ایک سینئر پاکستانی سیکیورٹی عہدیدار کے مطابق ایران کی جانب سے سعودی عرب کی ان صنعتی تنصیبات پر حملہ، جو امریکی کمپنیوں سے منسلک ہیں، مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب نے اس حملے کا جواب دیا تو مذاکرات مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے۔ مزید یہ کہ ایسی کسی بھی جوابی کارروائی کے نتیجے میں پاکستان بھی اس تنازع میں گھسیٹا جا سکتا ہے کیونکہ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دفاعی معاہدہ موجود ہے، جو حملے کی صورت میں ایک دوسرے کی مدد کا پابند بناتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ساجد خان نے گھر بلا کر کپڑے اتارنے کا کہا،اداکارہ نوینا بولے نے ہدایتکار پر سنگین الزام عائد کردیا
حساس صورتحال
دوسرے ذریعے نے صورتحال کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اس وقت "باریک برف" پر چل رہا ہے اور آئندہ تین سے چار گھنٹے مذاکرات کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا مرکزی کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجاویز کے تبادلے میں پل کا کام کر رہا ہے، تاہم تاحال کسی واضح پیش رفت یا سمجھوتے کے آثار نظر نہیں آئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تعیناتیاں اسلام آباد سے ہونی چاہئیں: جسٹس (ر) شوکت صدیقی
پاکستان کی کوششیں
پاکستانی اہلکار کے مطابق اسلام آباد ایران سے مسلسل رابطے میں ہے اور حالیہ دنوں میں تہران نے کچھ لچک دکھائی ہے کہ وہ مذاکرات میں شامل ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ سخت شرائط بھی پیش کر رہا ہے۔ پاکستان ایران کو بغیر کسی پیشگی شرط کے مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیشگوئی
ایران کی جانب سے ردعمل
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم ایک سینئر ایرانی ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ تہران نے عارضی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی مستقل امن مذاکرات کا آغاز اسی وقت ممکن ہے جب امریکہ اور اسرائیل اپنے حملے بند کریں، آئندہ کے لیے عدم جارحیت کی ضمانت دیں اور نقصانات کا ازالہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور سے اغوا امریکی شہریت کی حامل لڑکی جھنگ سے بازیاب، ملزم گرفتار
سعودی عرب پر حملے کی پیچیدگیاں
سعودی عرب پر ہونے والا حالیہ حملہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، کیونکہ اسلام آباد ایک طرف ریاض کے ساتھ دفاعی معاہدے کا پابند ہے تو دوسری جانب وہ اس جنگ میں شامل ہونے سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاکستان اس تنازع میں شامل ہوا تو اس کے ایران کے ساتھ مغربی سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال بگڑ سکتی ہے اور ملک کے اندر موجود بڑی شیعہ آبادی میں بھی بے چینی پیدا ہو سکتی ہے، جو پہلے ہی خطے کی کشیدگی سے متاثر ہو رہی ہے۔
ایران کے حالیہ حملے
واضح رہے کہ ایران نے سعودی عرب کی کئی انرجی تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔ الجبیل میں پیٹرو کیمیکل کمپلیکس، 20 ارب ڈالر کے سدارا کمپلیکس، ایگزون موبل تنصیبات، جعیمہ میں بھی پیٹروکیمیکل تنصیب پر حملہ کیا گیا ہے۔








