سعودی عرب نے صنعتی تنصیبات پر حملے کا جواب دیا تو پاکستان بھی گھسیٹا جا سکتا ہے، سیکیورٹی عہدیدار کی روئٹرز سے گفتگو
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کرانے کی کوششیں تاحال جاری ہیں، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ان کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستانی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران پر حملوں میں شدت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی سخت ڈیڈ لائن کے باعث صورتحال نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا سیاسی احتجاج کے نام پر افواج کے سربراہ کو قتل کی دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، وزیر مملکت بلال اظہرکیانی
سعودی عرب میں حملے کے اثرات
ایک سینئر پاکستانی سیکیورٹی عہدیدار کے مطابق ایران کی جانب سے سعودی عرب کی ان صنعتی تنصیبات پر حملہ، جو امریکی کمپنیوں سے منسلک ہیں، مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب نے اس حملے کا جواب دیا تو مذاکرات مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے۔ مزید یہ کہ ایسی کسی بھی جوابی کارروائی کے نتیجے میں پاکستان بھی اس تنازع میں گھسیٹا جا سکتا ہے کیونکہ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان دفاعی معاہدہ موجود ہے، جو حملے کی صورت میں ایک دوسرے کی مدد کا پابند بناتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں 10سالہ گھریلو ملازم کو بستر پر پیشاب کرنے پر تشدد کا نشانہ بنانے کا مقدمہ درج، گرفتار ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا
حساس صورتحال
دوسرے ذریعے نے صورتحال کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اس وقت "باریک برف" پر چل رہا ہے اور آئندہ تین سے چار گھنٹے مذاکرات کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا مرکزی کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجاویز کے تبادلے میں پل کا کام کر رہا ہے، تاہم تاحال کسی واضح پیش رفت یا سمجھوتے کے آثار نظر نہیں آئے۔
یہ بھی پڑھیں: معروف ڈرامہ نگار سائرہ رضا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئیں
پاکستان کی کوششیں
پاکستانی اہلکار کے مطابق اسلام آباد ایران سے مسلسل رابطے میں ہے اور حالیہ دنوں میں تہران نے کچھ لچک دکھائی ہے کہ وہ مذاکرات میں شامل ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ سخت شرائط بھی پیش کر رہا ہے۔ پاکستان ایران کو بغیر کسی پیشگی شرط کے مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: قطر کا ہیلی کاپٹر قطر کی سمندری حدود میں گر کر تباہ
ایران کی جانب سے ردعمل
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی تصدیق کی ہے کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم ایک سینئر ایرانی ذریعے نے روئٹرز کو بتایا کہ تہران نے عارضی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی مستقل امن مذاکرات کا آغاز اسی وقت ممکن ہے جب امریکہ اور اسرائیل اپنے حملے بند کریں، آئندہ کے لیے عدم جارحیت کی ضمانت دیں اور نقصانات کا ازالہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی چوک میں شہید ہونے والے پارٹی کارکنوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، علی امین گنڈا پور
سعودی عرب پر حملے کی پیچیدگیاں
سعودی عرب پر ہونے والا حالیہ حملہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، کیونکہ اسلام آباد ایک طرف ریاض کے ساتھ دفاعی معاہدے کا پابند ہے تو دوسری جانب وہ اس جنگ میں شامل ہونے سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاکستان اس تنازع میں شامل ہوا تو اس کے ایران کے ساتھ مغربی سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال بگڑ سکتی ہے اور ملک کے اندر موجود بڑی شیعہ آبادی میں بھی بے چینی پیدا ہو سکتی ہے، جو پہلے ہی خطے کی کشیدگی سے متاثر ہو رہی ہے۔
ایران کے حالیہ حملے
واضح رہے کہ ایران نے سعودی عرب کی کئی انرجی تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔ الجبیل میں پیٹرو کیمیکل کمپلیکس، 20 ارب ڈالر کے سدارا کمپلیکس، ایگزون موبل تنصیبات، جعیمہ میں بھی پیٹروکیمیکل تنصیب پر حملہ کیا گیا ہے۔








