حکومت اور اپوزیشن قیادت کو باہم مل بیٹھنے پر مجبور کریں، صاف شفاف انتخابات یقینی بنائیں تاکہ عوام کو بے یقینی اور مایوسی کی صورتحال سے نکالا جا سکے
صنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 360
آج جبکہ پاکستان اپنی تاریخ کے انتہائی سنگین معاشی اور سیاسی بحران سے گزر رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف بھی صف آرا ء ہے۔ جس کا تقاضا ہے کہ وطن عزیز میں قومی اتحاد اور باہمی مفاہمت پیدا کرنے کے لیے ملک کے تمام دانشور اور فہمیدہ حلقے بار، بنچ اور میڈیا و دیگر اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
سیاست میں تضادات
حکومت اور اپوزیشن کے قائدین مختلف اوقات میں باہمی مفاہمت، مل بیٹھنے، سیاسی استحکام اور آئین و قانون کی حکمرانی کی باتیں تو کرتے ہیں اور دعوت بھی دیتے ہیں لیکن ان کے قول و فعل کے تضادات ان کی سیاسی اغراض، غیر جمہوری اقدامات اور رویوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی چالاکی کی سیاست بازی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں، وہ وطن عزیز کو عملاً آئین و قانون کی حکمرانی سے ہمکنار کرنے میں ہمیشہ پس و پیش سے کام لیتے نظر آتے ہیں۔
وکلا برادری کا کردار
کالے کوٹ کی وکلاء برادری نے ہمیشہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے جدوجہد کی ہے اور مارشل لاء کا راستہ روکا ہے جبکہ تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کے بیشتر قائدین نے کبھی ایک مارشل لاء کا ساتھ دیا ہے اور کبھی دوسرے مارشل لاء کا ساتھ۔ ہم اراکین لاہور ہائی کورٹ بار آج دوبارہ اپنے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم آئندہ بھی آئین و قانون سے ماورا کسی دیگر طرز حکمرانی کی حمایت نہیں کریں گے۔
منافقانہ سیاست کا اثر
آج تمام محب وطن حلقے اور پوری قوم اس امر پر متفق ہے کہ پاکستان میں ایک عرصہ سے جاری جھوٹ، منافقت اور باہمی سرپھٹول کی سیاست ملک و ملت کے مفاد میں نہیں ہے۔ ذاتی اغراض کی سیاست اور حکمرانوں کی ہوس اقتدار، ان کے قومی مفادات کے برعکس فیصلوں اور اقدامات نے ملک کو آج اس مقام تک پہنچایا ہے کہ آج وطن عزیز کو دیوالیہ ہونے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ جس کے باعث آئندہ کئی سالوں تک ملک کو معاشی بحرانوں کا سامنا رہے گا۔
فوجی قیادت کی حمایت
اندریں حالات ہم اراکین لاہور ہائی کورٹ بار، چیف پاکستان آرمی کے اس مؤقف کو سراہتے ہیں کہ پاکستان آرمی آئندہ سیاست سے دور رہے گی اور صرف آئین و قانون اور قومی مفادات کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالے گی۔ ہم صدر مملکت ڈاکٹر محمد عارف علوی، چیف جسٹس پاکستان عطاء بندیال، پاکستان آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور عابد شاہد زبیری صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ملک و ملت کے مفاد میں اپنا غیر جانبدارانہ مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے حکومت وقت اور اپوزیشن قیادت کو باہم مل بیٹھنے پر مجبور کریں تاکہ وہ پاکستان کی قومی اسمبلی اور تمام صوبائی اسمبلیوں کے صاف شفاف عام انتخابات کے ایک ہی دن انعقاد کا دوٹوک اعلان کریں۔
ایڈووکیٹ ظفر علی راجا کی کامیابی
صدر/ سیکرٹری صاحب لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن لاہور، گزارش ہے کہ یہ امر ہماری پوری وکلاء برادری کے لیے باعثِ فخر و مسرّت ہے کہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ممتاز ممبر ایڈووکیٹ ظفر علی راجا کو اپنی تصنیف کردہ کتاب "قانوندان اقبال" پر صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔ وہ گزشتہ سال 23 مارچ 2022ء کو ایوان صدر میں صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی سے وصول بھی پا چکے ہیں۔ میری ناقص معلومات کے مطابق صحافی، ادیب، شاعر، لکھاری 13 کتابوں کے مصنف ظفر علی راجا پہلے قانون دان ہیں جنہیں یہ منفرد اعزاز حاصل ہوا ہے۔
کتاب کی رونمائی کی درخواست
لہذا ملتمس ہوں کہ پوری وکلاء برادری کی جانب سے ایڈووکیٹ ظفر علی راجا کی اس کاوش کو سراہا جانا چاہیے کہ انہوں نے یہ تحقیقی تاریخی کتاب تصنیف کر کے مفکر پاکستان و شاعر مشرق علامہ شیخ محمد اقبال کو بطور ایڈووکیٹ و قانون دان بھی زندہ جاوید کر دیا ہے۔ میری استدعا ہے کہ مصنف مذکورہ کو کتاب "اقبال قانون دان" کی رونمائی کا اہتمام لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے پہلی فرصت میں کیا جائے جس میں ظفر علی راجا ایڈووکیٹ کو مع فیملی ممبران مدعو کیا جائے یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ایڈووکیٹ ظفر علی راجا اگرچہ صحت مند ہیں لیکن وہ بھولنے کی بیماری DEMENTIA سے متاثر ہو چکے ہیں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








