گاؤں میں والد صاحب ’’مطب‘‘ چلاتے، شہر آتے تو جیب بھر کر لاتے اور خالی واپس لوٹتے، بہنیں ملنے جاتیں تو خوب مدد کرتے، فیاض تھے

تعارف

مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 111

یہ بھی پڑھیں: حمیرہ اصغر کی موت۔۔ تنہائی کی بےرحم خاموشی تھی جو آخری ساتھی بنی ۔۔۔ہم زندہ ہیں یا صرف تماشائی؟

تجربات کی داستان

اِس طرح کی ایک مثال دے دیتا ہوں کہ میں نے 1996؁ء میں بھی اِس سوسائٹی کی تین فائلیں چند ہزار میں خریدی ہوئی تھیں۔ جن کی اچانک قیمت بڑھ کر فی فائل ایک لاکھ پانچ ہزار روپے ہوگئی۔ میں نے یہ تینوں فائلیں ڈی ایچ اے کے H بلاک میں واقع رئیل اسٹیٹ کے ایک دفتر میں فروخت کردیں اور اُسی دن ایک سیکنڈ ہینڈ گاڑی اُسی رقم سے خرید کر گھر گیا۔

یہ بھی پڑھیں: آپریشن سندور کا منطقی انجام نریندر مودی کی شکست ہوگا، احسن اقبال

زوال کا آغاز

لیکن کہتے ہیں ”ہر کمالے را زوالے“ یہ لُوٹ گُھسوٹ کب تک چلتی۔ آخر پھر اِس سوسائٹی کا زوال شروع ہوا تو اِس سوسائٹی میں لگا اپنا ایک تہائی سرمایہ ڈوب گیا اور پھر یہ وہ وقت تھا جب ایک دو اور بڑی وجوہات کے ہوتے ہوئے اِس کاروبار سے ہاتھ کھینچ لیا اور دفتر کرایہ پر دے دیا جو تا حال کرایہ پر ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سلمان خان کو بشنوئی برادری سے معافی مانگنے کا مشورہ مل گیا

والد کی بیماری

دوسری مین وجہ والد صاحب کی بیماری تھی یہ 2000ء کا واقعہ ہے کہ اطلاع ملی کہ ”چندیاں تلاواں“ گاؤں نزد فیصل آباد جہاں والد صاحب کا ”دیسی شفاخانہ“ تھا۔ وہاں وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے ہیں۔ میں فوراً وہاں گیا اور اُن کو لاہور لے آیا اور علاج معالجہ شروع کردیا۔ اُن کے لاہور آنے پر بھی دفتر جاری تھا، اُن کو وہاں لے جاتا، وہ وہاں رونق میں بیٹھے رہتے اور دن اچھا گذر جاتا۔

یہ بھی پڑھیں: اننت امبانی کی شادی پر گھر کی خواتین نے مہندی لگوانے کے کتنے پیسے دیئے؟ ہوشربا انکشاف

بیماری کے اثرات

لیکن اُن کی حالت "Dementia" کے بڑھے اثرات کی وجہ سے غیر ہوتی گئی۔ لہٰذا دفتر چھوڑ دیا اور اُن کے ساتھ گھر میں مقیدّ ہوگئے۔ حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ کہا کرتے تھے کہ میں یہاں سے گذر رہا تھا۔ ”اِس گھر والوں نے مجھے آواز دی میں آگیا۔ یہ اچھے لوگ ہیں ویسے میں جلد اپنے گاؤں چلا جاؤں گا۔“

یہ بھی پڑھیں: رمضان المبارک کی آمد میں کتنے دن باقی؟ ممکنہ تاریخیں سامنے آگئیں

یادگار لمحات

پھر باہر کے ملکوں کے سیر و سیاحت کے قصّے اُن کی زبان سے نکلتے۔ ایک دفعہ کہنے لگے ”میں امریکہ گیا ہوا تھا وہاں واپسی پر ایک نوجوان گوری امریکی لڑکی میرے ساتھ آگئی یہاں آکر میں نے اُسے قُرآن مجید پڑھنا سکھایا… وغیرہ وغیرہ۔ دو تین دفعہ اچانک مین گیٹ سے چُپکے سے نکل کر غائب ہوگئے۔ بڑی ہی دوڑ دھوپ سے اُن کو تلاش کر کے لائے۔ یاد رہے آخری دفعہ تو سب رشتہ داروں کو مطلع کرنا پڑا اور سبھی چاروں طرف دوڑے تو خوش قسمتی سے وہ مِل گئے اور اُن کو واپس لے آئے۔ بعد میں پھر بیماری زور پکڑ گئی اور پھر بستر ہی اُن کا اوڑھنا بچھونا ہوگیا۔ مجھے اُن کے کمرے میں ہر وقت دِن رات رہنا پڑتا تاکہ اُٹھ کر گر نہ پڑیں۔ میری بیگم طاہرہ یاسمین بھی اصرار کر کے اُسی کمرے میں سوتی کہ وہ بھی برابر کی شراکت داری چاہتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں جائیدادوں کے ریٹس 15 سے 75 فیصد تک بڑھ گئے

خاتمہ

آخری دنوں میں والد صاحب بول و براز بھی بیڈ پر ہی کرنے لگے تو اِس تعفّن میں بھی میری بیگم اصرار کر کے میرے ساتھ ہی رہی۔ صبح اُٹھ کر سارا بستر لپیٹ کر باہر نل پر رکھتے اور میں والد صاحب کو واش روم میں لے جا کر نہلاتا۔ جب آخر قمیض ڈال کر تہبند بندھواتا تو اکثر کہتے:”یار اتنی خدمت کون کرتا ہے؟“ اِس سے اُن کا مطلب یہ تھا کہ ہم غیر لوگ ہیں اور اُن کو سنبھالے ہوئے ہیں اور یہ بڑی بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کے لیے برطانیہ کا سفر آسان ہو گیا، برطانیہ نے پاکستانی سیاحوں کے لیے نیا ای ویزا سسٹم متعارف کروادیا

آخری لمحات

آخر خالق حقیقی کا بلاوا آگیا اور 2002ء وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انّا للہ و انا الیہ راجعون

یہ بھی پڑھیں: کیمپنگ کے دوران کام کی تقسیم

جدّی جائیداد

ہم 2 بھائی اور2 بہنیں یہاں لاہور میں سکونت اختیار کر چکے تھے۔ والد صاحب وہاں ”چندیاں تلاواں“ نزد لائل پور (اب فیصل آباد) میں ہی اپنا ”مطب“ چلاتے رہے۔ عید پر سب بہن بھائی وہاں جا کر عید مناتے اور ویسے بھی کبھی کبھی وہاں والد صاحب کے ہاں حاضری دے آتے۔ والد صاحب خود بھی کبھی کبھی لاہور آتے لیکن اُن کا دورہ اکثر طُوفانی ہوتا تھا۔ کبھی تو دن کے دن ہی واپسی ہوجاتی اور کبھی کبھار ایک رات لاہور میں قیام کرتے۔”مطب“ اچھّا چل رہا تھا لہذا اُن کے ہاں روپے کی ریل پیل تھی۔ جب یہاں آتے تو جیب بھر کر لاتے اور خالی جیب واپس لوٹتے۔ ویسے بھی جب کبھی بہنیں اُن کے ہاں ملنے جاتیں تو خوب مدد کرتے۔ اپنا بھی ذکر کرتا چلوں کہ میں نے ایک دو دفعہ والد صاحب سے کسی مشکل میں مدد چاہی تو انہوں نے بھرپور مدد کی۔ وہ ایک کھلے دل کے فیاض شخص تھے۔ روپے پیسے کو جوڑ جوڑ کر تجوری میں ڈالنے کے قائل نہ تھے۔ (جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...