پاکستان اور تمام شراکت داروں کا شکریہ، اب ہدف کیا ہونا چاہیے؟
خوش آئند جنگ بندی
لاہور (خصوصی رپورٹ) فرانس، اٹلی، جرمنی، کینیڈا، ڈنمارک، نیدرلینڈز، سپین، یورپی کمیشن، یورپی کونسل اور جاپان کے رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی 2 ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کال سینٹر میں لڑکی کو حبس بے جا میں رکھنے کا مقدمہ درج، 8 افراد گرفتار
پاکستان کا کردار
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اس اہم معاہدے کو آسان بنانے کے لیے پاکستان اور اس میں شامل تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اب ہدف یہ ہونا چاہیے کہ آنے والے دنوں میں جنگ کا فوری اور دیرپا خاتمہ مذاکرات کے ذریعے کیا جائے۔ یہ صرف سفارتی ذرائع سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا ملک میں سرمایہ کاری کرنے والے اوورسیز پاکستانیوں کو سول ایوارڈ دینے کا اعلان
مذاکرات کی اہمیت
ہم ایک ٹھوس مذاکراتی تصفیے کی جانب فوری پیش رفت کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ یہ ایران کی شہری آبادی کے تحفظ اور خطے میں سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔ یہ ایک شدید عالمی توانائی بحران سے بچ سکتا ہے۔ ہم ان سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے، ہم امریکہ اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔
عمل درآمد کا مطالبہ
ہم تمام فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ لبنان سمیت جنگ بندی پر عمل درآمد کریں۔ ہماری حکومتیں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں گی.








