پاکستان کا بدلتا عالمی کردار: امن کی سفارتکاری
پاکستان کا عالمی نقشہ
تحریر: زینب وحید
"اسلام آباد اب دنیا کیلئے مرکز نگاہ ہے، یہاں ہونے والے مذاکرات سے جنگ کے شعلے ہمیشہ کیلئے بجھ جائیں گے، سفارتی محاذ پر یہ تاریخی کامیابی سیاسی وعسکری قیادت کی یکسوئی اور انتھک محنت کی بدولت ممکن ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے سفارتی محاذ پر عظیم کامیابی سے نوازا، بھائی کو بھائی اور ایک خدا، ایک رسول اور ایک قرآن کو ماننے والوں کو لڑانے کیلئے اندرونی و بیرونی سازشیں ناکام ہوئیں"۔
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کے کابینہ سے اس خطاب کے بعد بے مثال قیادت اور کامیابیوں پر کابینہ ارکان نے دل کھول کر تالیاں بجائیں۔ میں یہ منظر نارتھ فیلڈ، امریکا کے کالج میں ہاسٹل کے اپنے کمرے میں یوٹیوب پر دیکھ رہی تھی، جس کے بعد دیگر پاکستانیوں کے ساتھ میں نے بھی اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مُعروف سعودی سوشل میڈیا انفلوئنسر ابو مرضع المناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق
دنیا میں پاکستان کا مثبت کردار
اس وقت مشرق سے مغرب تک عالمی رہنما، مغربی اور امریکا میڈیا، دوست اور مخالف، ایک ہی موضوع زیر بحث ہے اور ایک ہی ملک کی تعریف ہو رہی ہے جس کا نام پاکستان ہے جو اب پوری دنیا کی آنکھوں کا تارا بن گیا ہے، لیکن یہ سفر پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں بھرا تھا۔ خود وزیراعظم نے بھی اعتراف کیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کئی راتیں جاگ کر گزاریں اور جس انداز میں امریکی اور ایرانی قیادت کے ساتھ روابط قائم رکھ کر معاملات کو آگے بڑھایا، وہ قابلِ تحسین ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ وقت ہرچند کہ بہت نازک ہے مگر مجھے پختہ یقین ہے کہ ہم اس پر غالب آئیں گے
امن کا سفر
اب یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنی قیادت کا لوہا منوا کر خود کو امن، دانشمندی اور ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ بھی ثابت کیا کہ پاکستان محض ایک تماشائی نہیں بلکہ قائدانہ قوت ہے جو نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا جانتی ہے بلکہ خطے میں امن، مکالمے اور استحکام کے فروغ کے لئے عملی اقدامات کی صلاحیتوں سے بھی مالا مال ہے۔ یہ جنگ بندی ایک ذمہ دار ریاست کے عزم کا مظہر بھی ہے جو جرات مندانہ اور دور اندیش قیادت میں انجام پایا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ہاکی فیڈریشن نے 5 افراد پر تاحیات پابندی عائد کردی
سفارتی کامیابیوں کی حقیقت
اقوام عالم میں نمایاں مقام کا حاصل ہونا بلاشبہ پاکستان کی شبانہ روز پرخلوص انتھک محنت اور مشکل ترین حالات میں ناقابل فراموش سفارتکاری کا نتیجہ ہے۔ کون انکار کر سکتا ہے کہ جب بھی دنیا میں امن کی تاریخ قلم بند ہو گی تو وزیراعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نام سنہری حروف میں شامل رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں شوہر کا بیوی کے ساتھ غیر فطری جنسی عمل، لڑکی شادی کے تیسرے ہی روز کوما میں چلی گئی
پاکستان کی نئی شروعات
سوشل میڈیا ٹرینڈز اور اس بحث کے قطع نظر کہ اس عظیم کامیابی پر وزیراعظم محمد شہباز شریف یا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نوبل پرائز سے نوازا جائے، عالمی سطح پر سب سے کلیدی کردار بحیثیت قوم ہمارے لئے باعث اطمینان ہے۔ مجھے امید ہے کہ جمعہ سے اسلام آباد میں شروع ہونے والے امریکا ایران مذاکرات میں بھی پاکستان کا بھر پور کردار شامل ہو گا اور ہماری مخلصانہ کوششوں سے پائیدار امن قائم ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، بچی کی بالیاں نوچنے والا پولیس تحویل سے فرار، ملزم مقابلے کے بعد زخمی حالت میں گرفتار
دعائیں
اب یہ دعا کرتی ہوں کہ
یا اللہ، ہم تیری اس عطا پر تیرے حضور سر جھکائے عاجزی سے شکر بجا لاتے ہیں اور یا اللہ، ہمارے پرچم کو یونہی سر بلند رکھنا۔ دعا ہے کہ پاکستان کی کوششیں رنگ لائیں، ایران و مشرق وسطیٰ میں امن آئے، آنے والے ایام پاکستان کے لئے فخر کا موقع اور پوری دنیا کے لئے امن کا پیغام لے کر آئیں۔ دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں۔ دعا ہے یہی اے وطن تو سلامت رہے اور تاقیامت رہے!
مصنفہ کا تعارف
زینب وحید پرائم منسٹر نیشنل یوتھ کونسل کی ممبر ہیں۔ امریکا کے ”کارلٹن“ کالج کی اسکالرشپ ہولڈر طالبہ ہیں۔ یونیسف یوتھ فورسائیٹ فلوشپ 2024 میں پاکستان کی نمائندہ رہ چکی ہیں۔ کلائمٹ ایکٹوسٹ اور جرنلسٹ ہیں۔ اقوام متحدہ اور حکومت پاکستان نے مشترکہ طور پر انہیں "کلائمٹ ہیرو"کے اعزاز سے نوازا ہے۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔








