تجربہ وہ بلا ہے جو کسی تعلیمی ادارے میں نہیں سکھایا جا سکتا ، بوڑھوں کے پاس یہ وافر ہوتا ہے اور ملتا بھی مفت ہے اگر کوئی سیکھنا چاہے تو
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 493
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈا پور گرفتار ، اب تک کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا
ٹریننگ کی خبر
مجھے یہ بھی اڑتی خبر ملی کہ لک اس ٹریننگ کے لئے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو سے رابطہ میں تھا۔ یہ خبر سن کر مجھے افسوس ہوا کہ اتنی محنت کے بعد یہ کیا ہے۔ خیر میں لاہور آیا اور سارہ اسلم سے ملا۔ جو ہمیشہ درست مشورہ دیتی تھیں اور اکیڈمی کی ورکنگ کو سرہاتی تھیں۔ ان سے دونوں ایشوز پر بات کی۔
یہ بھی پڑھیں: کمانڈر ایئر فورس زمبابوے ایئر مارشل جان جیکب نزویدے کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزاسے ملاقات
سیکرٹری صاحب سے بات چیت
بات سن کر کہنے لگیں؛ "سیکرٹری صاحب سے بات کریں۔ وہ لک کو اچھا نہیں سمجھتے۔" میں سیکرٹری صاحب کے پاس جانے سے پہلے لک صاحب سے ملا اور کہا؛ "سر! نجیب نے پیغام دیا تھا آپ ملنا چاہتے تھے۔" بولے؛ "اس نے اور کچھ نہیں کہا؟" میں نے جواب دیا؛ "سر! اکیڈمی میں وزٹنگ فیکلٹی کو پیسے دیتے ہیں کسی دوسرے کو نہیں۔ اگر آپ کو تربیت کے بجٹ سے پیسے چاہئیں تو کسی اور کی ٹرانسفر ڈائریکٹر اکیڈمی کرا لیں جو آپ کی خواہش پوری کر سکے۔" وہ چپ ہو گئے اور جب میں جانے لگا تو بولے؛ "میں نے اسسٹنٹ انجینئرز کی تربیت اکیڈمی سے کسی اور جگہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔" میں نے جواب دیا؛ "سر! انشاء اللہ وہ تربیت بھی اکیڈمی میں ہی ہوگی۔ میں سیکرٹری صاحب سے ملنے جا رہا ہوں۔"
یہ بھی پڑھیں: پلوامہ نے لوک سبھا انتخابات میں مدد دی، گودھرا نے گجرات میں اور اب پہلگام کا واقعہ بہار میں استعمال ہو رہا ہے” مودی پر بڑا الزام لگ گیا
سیکرٹری بلدیات کی حمایت
میں سیکرٹری بلدیات نسیم نواز سے ملا اور انہیں اپنے خدشہ سے آگاہ کیا۔ وہ میری بات سن کر بولے؛ "اس تربیت کی منظوری جس نے دی تھی تبدیل کرنے کا اختیار اسی کا ہے۔ اگر ٹریننگ وڈیو کی تبدیلی کا فیصلہ ہوا تو آپ سے مشورہ کے بغیر نہیں ہو گا۔ جائیں اور جا کر تربیت کی تیاری کریں۔"
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں OLX کے ذریعے مبینہ اغوا اور ڈکیتی کی انوکھی واردات سامنے آگئی
تربیت کا نتیجہ
لک کا تبادلہ ہو گیا اور اسسٹنٹ انجینئرز کی تربیت کا مرحلہ بھی خوش اسلوبی سے طے ہوا۔ شرکاء تربیت کے لئے آنے والے صاحبان نے نہ صرف ان کو اُن کی ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہی دی بلکہ تجربات کی روشنی میں بھی بہت سی باتوں سے آگاہ کیا جو کسی کتاب یا مینوئل میں نہیں ملتیں۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت نے اہم ترمیمی بلز، سول اعزازات، سزاؤں میں خصوصی کمی کی منظوری دے دی
تجربات کی اہمیت
افریقی کہاوت ہے؛ "جب کوئی بوڑھا مرتا ہے تو اس کے ساتھ تجربہ بھی مر جاتا ہے۔" قومیں اپنے بوڑھوں اور بزرگوں کے تجربات کو نئی نسل تک منتقل کرتی ہیں۔ تعلیم آپ کو شعور، جدید دنیا کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتی ہے لیکن تجربہ وہ بلا ہے جو نہ تو کسی تعلیمی ادارے میں سکھایا جا سکتا اور نہ ہی اس کا نعم البدل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوریا کمار یادیو کی عثمان طارق کے انداز میں بالنگ کرانے کی ویڈیو وائرل
دیگر کاموں کی اہمیت
ٹریننگ کے اعلی معیار، فیکلٹی کی دل جمی، سہولیات کی دستیابی اور اکیڈمی کے شاندار سکون ماحول نے اکیڈمی کے نام اور کام دونوں کا چرچا کردیا تھا۔ مقامی حکومتوں سے وابستہ افراد اور ادارے ہم سے رجوع کرنے لگے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے کا حوالہ ہنڈی والوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 9 ملزمان گرفتار، ملکی و غیرملکی کرنسی برآمد
اسلام آباد میں تربیاتی ورکشاپ
2012ء میں اسلام آباد کے بلدیاتی اداروں کے انتخابات ہوئے، اسلام آباد کا بلدیاتی نظام اور قانون فیڈریشن کی باقی اکائیوں سے قدرے مختلف تھا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ڈائریکٹر ثنا اللہ امان نے تحریری درخواست سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اکیڈمی یہاں کے نو منتخب بلدیاتی نمائندوں کی تربیت کا اہتمام اسلام آباد میں ہی کرے۔ یوں 3 روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام سی ڈی اے کے آڈیٹوریم میں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری
ادائیگی کے مسائل
یہ ورکشاپ بعد از دوپہر 3 بجے شروع ہوتی اور شام 6 بجے اختتام پذیر۔ ہم روز لالہ موسیٰ سے یہاں آتے اور شام گئے واپس چلے جاتے۔ اس پوری تربیت کا ایک باقاعدہ معاہدہ تھا۔ افسوس جب اس معاہدہ کے مطابق ادائیگی کا وقت آیا تو ہمیں ناکوں چنے چبانے پڑے۔ اکیڈمی کی اکاؤنٹ برانچ نے بھی خوب ڈھٹائی دکھائی اور معاہدہ کی رقم وصول کرکے ہی دم لیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چھٹیاں ختم/ پنجاب میں تعلیمی ادارے کھل گئے
نئے باب کا آغاز
3 دن تک میری ٹیم نے ان نو منتخب نمائندوں کے اسلام آباد کے بلدیاتی قانون کے خدو خال، ان کے فرائض، بجٹ کی تیاری، رولز سازی جیسے بنیادی کاموں کی تربیت دے کر اپنی پروفائل میں نئے باب کا اضافہ کر دیا تھا۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








