اب کاروبار تھا نہ والد صاحب کی تیمار داری کی ذمہ داری، بالکل ہی فارغ ہوگیا، تنگی ترشی کا ایسا نقشہ کھینچا گیاکہ گاؤں جا کر زمین اور مکان فروخت کر دیا
زندگی کے دھندلے راستے
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط:112
گاؤں کی محبت اور جائیداد کا معاملہ
والد صاحب کی وفات کے بعد میرا یہ ارادہ تھا کہ گاؤں میں ایک اچھا گھر بناؤں، زرعی زمین رکھوں، اور رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھوں۔ عید کے مواقع پر تمام بہن بھائی گاؤں آ کر جشن منائیں۔ لیکن کچھ وارثانِ جائیداد نے ایسی صورتحال پیدا کی کہ اگر یہ جائیداد بیچ کر انہیں فوری رقم فراہم نہ کی گئی تو دنیا اندھیر ہو جائے گی۔ میں نے اپنی دُور اندیشی کو نظر انداز کرتے ہوئے، گاؤں جا کر زمین اور مکان فروخت کر دیا اور بعد میں سب ورثاء کو ان کا حصّہ دے دیا۔
تعلیم کا سفر
اب میرا نہ تو کاروبار تھا اور نہ والد صاحب کے تیمار داری کی ذمہ داری، میں بالکل فارغ ہو گیا۔ اس دوران، میں نے "Dawah Academy, International Islamic University Islamabad" میں 2002ء میں ایک سالہ قرآن کورس نمبر 18 میں داخلہ لے لیا۔ یہ قرآنی کورس ایک سال تک جاری رہا، اور 2003ء میں امتحان دیا جس میں میں نے 461/480 نمبر حاصل کر کے گریڈ اے میں کامیابی حاصل کی۔ بعد میں 11 ستمبر 2004ء کو مجھے اس کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا گیا۔
والدہ کی خدمت اور وفات
میری والدہ تقریباً 25 سال تک لاہور میں رہائش پذیر رہیں۔ جب ان کی صحت بگڑ گئی تو والد صاحب نے مجھے ان کی خدمت کرنے کی ہدایت کی۔ وہ ایک دن اچانک بیمار ہوئیں، اور سروس ہسپتال لے جانے پر ڈاکٹروں کی کوششیں بے سود رہیں۔ میں نے انہیں کھو دیا، اور وہ ڈی ایچ اے کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئیں۔ انّا للہ و انا الیہ راجعون۔
نئی مہمات کا آغاز
والدین کی وفات کے بعد مجھے کاروبار میں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ میں نے دفتر کرایہ پر دے دیا، اور وقت گزاری میں سیر و سیاحت کا شوق پیدا ہوا۔ 1955ء میں روزنامہ غریب فیصل آباد کے ایڈیٹر نے میری ایک غزل پر تبصرہ کرتے ہوئے مشورہ دیا تھا کہ میں اپنی توانائیاں نثر لکھنے میں صرف کروں۔ چنانچہ 2004ء میں انگلینڈ کے سفر کا آغاز ہوا اور سفرناموں کی دنیا کا آغاز ہوا۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








