خیر سگالی کے طور پر آئے، امریکا پر اعتماد نہیں، غالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر کا بیان
اسلام آباد (ویب ڈیسک) ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر غالیباف نے کہا ہے کہ خیر سگالی کے طور پر آئے، ہماری نیت اچھی ہے لیکن امریکا پر اعتماد نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرین کے ذریعے 46 کلو سے زائد چرس سمگلنگ کی کوشش ناکام
امریکا ایران مذاکرات کی شرائط
روزنامہ جنگ کے مطابق انہوں نے امریکا ایران مذاکرات سے پہلے لبنان میں جنگ بندی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ طے شدہ نکات تھے، جن پر عمل ہونا ابھی باقی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے کہا کہ امریکا حقیقی معاہدہ پیش کرے اور ایران کے حقوق تسلیم کرے تو ایران معاہدے کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویزوں کے مسائل حل، یو اے ای جانے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری
باقر غالیباف کا تجربہ
ادھر ایک صحافی و وکیل کی شناخت سے موجود "جوہن حسین" نامی اکاؤنٹ نے بھی بتایاکہ پارلیمنٹ کے سپیکر نے اسلام آباد پہنچنے پر اور امریکی نائب صدر وینس کے حالیہ بیانات کے بارے میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا ہے کہ بدقسمتی سے، امریکیوں کے ساتھ مذاکرات میں ہمارا تجربہ ہمیشہ ناکامی اور معاہدے کی خلاف ورزی کا شکار رہا ہے۔ ایرانی فریق کے نیک ارادوں کے باوجود ایک سال سے بھی کم عرصے میں دو بار، مذاکرات کے بیچ میں، انہوں نے ہم پر حملہ کیا اور متعدد جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان دوسرا ون ڈے آج ہوگا۔
جوہن حسین کا ٹویٹ
اسلام آباد ائیرپورٹ پر قالیباف: ہماری نیت اچھی ہے لیکن بھروسہ نہیں ہے۔ امریکیوں کے ساتھ مذاکرات میں ہمارا تجربہ ہمیشہ ناکامی اور معاہدے کی خلاف ورزی کا شکار رہا ہے۔
پارلیمنٹ کے سپیکر نے اسلام آباد پہنچنے پر اور امریکی نائب صدر وینس کے حالیہ بیانات کے بارے میں صحافیوں کے سوالات…
— John Hussain (@johnhussainpres) April 10, 2026
آئندہ مذاکرات میں ایرانی موقف
ان کا کہناتھاکہ آئندہ مذاکرات میں اگر امریکی فریق کوئی حقیقی معاہدہ کرنے اور ایرانی عوام کے حقوق دینے کے لیے تیار ہے تو وہ ہماری رضامندی کو دیکھیں گے لیکن موجودہ جنگ میں ہم نے انہیں دکھایا ہے کہ اگر وہ مذاکرات کو بے نتیجہ دکھاوا اور فریب کاری کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ہم اللہ پر یقین اور اپنے لوگوں کی طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے حقوق کا ادراک کرنے کے لیے تیار ہیں۔








