والد صاحب نے زندگی بھر ہلکی ورزش کو اپنائے رکھا، والدین کی خدمت، غریب پروری اور خیرات و صدقات کی ادائیگی کو اپنا شعار بنائے رکھا۔

رانا امیر احمد کی کہانی

مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 364

والد کی صحت اور زندگی

والد صاحب کی عمومی صحت ہمیشہ بہت اچھی رہی۔ انہوں نے زندگی بھر ہلکی ورزش (واک) کو اپنائے رکھا۔ بکرے کا گوشت، دودھ اور دہی روزانہ کی خوراک کا حصہ رہی۔ انہوں نے پاکیزہ شفاف زندگی بسر کی اور اپنے والدین کی خدمت، غریب پروری اور خیرات و صدقات کی ادائیگی کو اپنا شعار بنائے رکھا۔

جسمانی مسائل

پیٹ/ معدے کی قبض کے مسائل ضرور ان کے ساتھ تھے جن کا حکیمی اور ڈاکٹری علاج کرتے رہے۔ لیکن 71 سال کی عمر میں انہیں مثانہ پیشاب کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے ہی نہر کی طرف سیر کو جاتے ہوئے ان کا خیال تھا کہ جڑانوالہ میں ان کی عمر کا کوئی بھی آدمی ان جتنا تیز نہیں دوڑ سکتا۔ ان کا خیال تھا کہ شاید تکبر کا گمان خیال دل میں آنے کی وجہ سے انہیں یہ تکلیف ہوئی ہے۔

علاج کی کوششیں

جڑانوالہ میں ابتدائی طبی امداد حاصل کرنے کے بعد انہیں لاہور لے آئے۔ والدہ اور چھوٹے بھائی رانا شبیر احمد خاں ہمارے ہمراہ آئے۔ لاہور کے ہسپتال میں ان کی پرائیویٹ سرجری کروائی گئی۔ ایک ماہ ہمارے ساتھ رہے اور ماشاء اللہ صحت یاب ہونے پر ان کی خواہش کے مطابق انہیں واپس جڑانوالہ چھوڑ آئے۔

دوبارہ مسائل اور تشخیص

2002 میں ان کی پیشاب کی تکلیف میں دوبارہ اضافہ ہوا۔ انہیں لاہور لے کر آئے جہاں ایکسرے رپورٹ دیکھنے کے بعد پروفیسر ڈاکٹر یورالوجسٹ نے بتایا کہ انہیں پراسٹیٹ مثانے کا کینسر ہوگیا ہے۔ انہوں نے کسی بھی قسم کی سرجری کی سفارش نہیں کی اور انہیں مکمل آرام اور توجہ کی ضرورت تھی۔

خودکشی کی آخری کوشش

دو ماہ بعد جڑانوالہ کے کسی لالچی ڈاکٹر نے میرے چھوٹے بھائی شبیر Ahmed خاں کو شیشے میں اتارا اور یقین دلایا کہ وہ ہلکی سرجری سے والد صاحب کا علاج کر سکتے ہیں۔ والد صاحب چھوٹے بھائی کے کہنے پر آپریشن کے لئے ذہنی طور پر تیار ہوگئے۔ میں نے انہیں لاہور کے پروفیسر یورالوجسٹ کا مشورہ یاد دلایا، لیکن وہ آپریشن کے لئے مکمل تیار تھے۔

آخری لمحات

آخری لمحوں میں ان کی حالت بگڑ گئی اور وہ شدید کرب اور تکلیف میں مبتلا ہوگئے۔ وہ چند دن بعد اس دار فانی سے ہم سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہوگئے۔ حق مغفرت کرے، وہ بہت بڑے انسان تھے۔

والد صاحب کے اصول

مجھے والد صاحب سے صرف دو باتوں میں اختلاف رہا: ایک ان کا اپنی ذات راجپوت برادری کو دوسری برادریوں کی نسبت بے حد اہمیت دینا اور دوسرا دادا جان کی وراثت میں اپنی بہنوں کا حصہ اپنے نام کروا لینا۔

نوٹ

یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...