مولانا عطا الرحمان کا آئینی ترمیم معاملے پر جے یو آئی ممبران کو لاپتہ کرنے کا الزام
جے یو آئی کے سینیٹر مولانا عطا الرحمان کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) – جے یو آئی کے مرکزی رہنما سینیٹر مولانا عطا الرحمان نے آئینی ترمیم کے معاملے پر پارٹی ممبران کے لاپتہ ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر گلگت بلتستان مہدی شاہ کا علیحدہ صوبے کا مطالبہ
سینیٹ اجلاس میں اہم نکات
سینیٹ اجلاس سے خطاب میں مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ آئینی ترمیم کے معاملے پر ہمارے ممبران کو غائب کیا گیا، اور دوسری سیاسی جماعتوں کے ممبران بھی اسی صورتحال کا شکار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال انتہائی گھمبیر ہوتی جا رہی ہے، اور یہ سوال اٹھایا کہ کیا آئینی ترمیم کے لیے ہماری جان خطرے میں ڈالنی پڑے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ کا کانسٹیبل مبشر کی شہادت پر گہرے رنج کا اظہار، فسادیوں نے بے گناہ کی جان لے لی، معاف نہیں کریں گے: مریم نواز
رابطہ نہ ہونے کا ذکر
مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ سینیٹر شکور خان سے کل سے کوئی رابطہ نہیں ہے، اور اس طرح کی صورتحال میں کیسی توقع کی جا سکتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس، مقامی معززین پر مشتمل مزید مؤثر مسجد مینجمنٹ کمیٹیوں کے قیام پر اتفاق، مدارس کا ڈیٹا، مساجد کی جیو ٹیکنگ مکمل۔
حکومت اور اپوزیشن کے تعلقات
انہوں نے کہا کہ کیا ہمیں اس آئینی ترمیم کے لیے سودے بازی کرنی ہوگی؟ پارلیمان کی ذمہ داری ہے کہ اگر ملک کو بچانا ہے تو اپوزیشن کو ساتھ ملا کر چلنا ہوگا۔
پی ٹی آئی کے مطالبات
جے یو آئی کے رہنما نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے کہ قیادت سے مشاورت کی اجازت دی جائے، اور پی ٹی آئی کہتی ہے کہ قیادت کی منظوری کے بعد آپ سے بات چیت کریں گے۔







