مولانا عطا الرحمان کا آئینی ترمیم معاملے پر جے یو آئی ممبران کو لاپتہ کرنے کا الزام
جے یو آئی کے سینیٹر مولانا عطا الرحمان کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) – جے یو آئی کے مرکزی رہنما سینیٹر مولانا عطا الرحمان نے آئینی ترمیم کے معاملے پر پارٹی ممبران کے لاپتہ ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گندم امپورٹ کرنی پڑ رہی ہے، ریٹ 4200 روپے فی من مقرر کیا جائے: شرجیل میمن کا وفاقی حکومت سے مطالبہ
سینیٹ اجلاس میں اہم نکات
سینیٹ اجلاس سے خطاب میں مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ آئینی ترمیم کے معاملے پر ہمارے ممبران کو غائب کیا گیا، اور دوسری سیاسی جماعتوں کے ممبران بھی اسی صورتحال کا شکار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال انتہائی گھمبیر ہوتی جا رہی ہے، اور یہ سوال اٹھایا کہ کیا آئینی ترمیم کے لیے ہماری جان خطرے میں ڈالنی پڑے گی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کا بیجنگ میں مصروفیت سے بھرپور دن، دورے، اہم ملاقاتیں، ظہرانہ، تعلقات کے فروغ کیلئے جڑواں شہروں اور صوبوں کی تجویز، چینی سرمایہ کاری کیلئے بھرپور تعاون کی پیشکش
رابطہ نہ ہونے کا ذکر
مولانا عطا الرحمان نے کہا کہ سینیٹر شکور خان سے کل سے کوئی رابطہ نہیں ہے، اور اس طرح کی صورتحال میں کیسی توقع کی جا سکتی ہے کہ ہم ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اینٹی کرپشن عدالت میں پرویز الہیٰ کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور
حکومت اور اپوزیشن کے تعلقات
انہوں نے کہا کہ کیا ہمیں اس آئینی ترمیم کے لیے سودے بازی کرنی ہوگی؟ پارلیمان کی ذمہ داری ہے کہ اگر ملک کو بچانا ہے تو اپوزیشن کو ساتھ ملا کر چلنا ہوگا۔
پی ٹی آئی کے مطالبات
جے یو آئی کے رہنما نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کا مطالبہ ہے کہ قیادت سے مشاورت کی اجازت دی جائے، اور پی ٹی آئی کہتی ہے کہ قیادت کی منظوری کے بعد آپ سے بات چیت کریں گے۔








