وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے 26ویں آئینی ترمیم کا خیر مقدم ، اعلامیہ جاری

وفاقی شرعی عدالت کا اعلان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی شرعی عدالت نے 26ویں آئینی ترمیم کا خیر مقدم کرتے ہوئے آئینی ترمیم سے متعلق اعلامیہ جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: آدمی نے اچانک اپنی ایک کروڑ کی نوکری چھوڑ دی، وجہ ایسی کہ نوکری پیشہ لوگ سوچنے پر مجبور ہوجائیں
آئینی ترمیم کی تفصیلات
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ نے آئین پاکستان میں 26ویں ترمیم کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے، آرٹیکل 38 ایف میں ترمیم کے مطابق یکم جنوری 2028 تک سود کے مکمل خاتمے کو لازمی قرار دیا گیا ہے، یہ پاکستان میں اسلامی مالیاتی اور بینکاری نظام کے فروغ کیلئے ایک اہم پیش رفت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اداروں سےکہناچاہتی ہوں،بانی کسی سےبدلہ نہیں لیں گے، بشریٰ بی بی کا ویڈیو پیغام
تاریخی کامیابی
اعلامیہ کے مطابق آئینی ترمیم ایک تاریخی کامیابی ہے جس سے اسلامی مالیات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ ہوتا ہے۔ یہ ترمیم وفاقی شرعی عدالت کی جانب سے 28 اپریل 2022 کو سنائے گئے تاریخی فیصلے کا نتیجہ ہے۔ سود سے متعلق فیصلہ جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور نے تحریر کیا تھا، اس فیصلے میں عدالت نے ملک کے مالیاتی نظام سے ربا کے مکمل خاتمے کیلئے 5 سال کی مدت مقرر کی تھی۔
آئینی حیثیت
اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ آئین کا حصہ بن چکا جو پاکستان کی قانون سازی کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت ہے۔