ایران کیلیے جاسوسی پر فوجی اہلکار سمیت 7 اسرائیلی شہری گرفتار

ایرانی جاسوسی کے الزام میں گرفتاری
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) نیتن یاہو حکومت نے ایران کو اسرائیل کے فوجی اڈوں سے متعلق اہم اور حساس معلومات فراہم کرنے کے الزام میں 7 یہودی باشندوں کو گرفتار کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: ستunting: بچوں کے قد میں عمر کے لحاظ سے کمی کی وجوہات جو نظر انداز کی گئی ہیں۔
گرفتار شدہ افراد کی شناخت
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، گرفتار کیے گئے ساتوں اسرائیلی شہریوں کا تعلق حیفہ سے ہے، جن میں ایک فوجی اور دو نابالغ بچے بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 190ملین پاؤنڈ ریفرنس؛ احتساب عدالت کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستوں پر دوبارہ فیصلہ کرنے کی ہدایت
ایرانی معلومات کی ترسیل
گرفتار ہونے والوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران کے لیے سیکڑوں کام انجام دیے ہیں، جن میں تل ابیب میں کریا ڈیفنس ہیڈکوارٹر، نیواتیم اور رامات ڈیوڈ ایئر بیس کی تصاویر اور معلومات جمع کرنا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محمد اشفاق بدایونی کی دوسری کتاب “عابد اسکوائر” کی جلد رونمائی متوقع
دفاعی مقامات پر حملے
ان افراد سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر ہی نیواتیم ملٹری بیس کو اس سال ایرانی فوج نے دو بار میزائل حملوں میں نشانہ بنایا تھا، اور حزب اللہ کی جانب سے رامات ڈیوڈ کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: معروف صحافی الطاف حسن قریشی کی اہلیہ انتقال کر گئیں
اسٹریٹجک مقامات کے نقشے
مشتبہ افراد پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ہینڈلرز سے اسٹریٹجک مقامات کے نقشے حاصل کیے، جن میں گولانی بیس بھی شامل ہے، جو اس ماہ کے شروع میں ایک مہلک ڈرون حملے میں تباہ ہو گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: خوش اور مطمئن رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو آپ سے بڑھ کر کوئی ذہین نہیں، احساس کمتری میں مبتلا ہیں تو آپ دوسروں کیساتھ اپنا تقابل کرتے ہیں
تفتیش کے دوران اعتراف
تفتیش کے دوران، ان مشتبہ افراد نے اعتراف کیا کہ وہ دو سال سے ایرانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے مختلف کام انجام دے رہے تھے اور وہ ایرانی ایجنٹوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں کی سکول پک اینڈ ڈراپ: عدالت کا اہم فیصلہ
مالی مراعات
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیوں کے بدلے میں ایران ان افراد کو کرپٹو کرنسی اور لاکھوں ڈالر ادا کر رہا تھا۔
آئندہ کی قانونی کارروائی
استغاثہ کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز ساتوں مخبروں پر فرد جرم دائر کی جائے گی اور درخواست کی جائے گی کہ انہیں قانونی کارروائی کے اختتام تک حراست میں رکھا جائے۔