ایران کیلیے جاسوسی پر فوجی اہلکار سمیت 7 اسرائیلی شہری گرفتار
ایرانی جاسوسی کے الزام میں گرفتاری
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) نیتن یاہو حکومت نے ایران کو اسرائیل کے فوجی اڈوں سے متعلق اہم اور حساس معلومات فراہم کرنے کے الزام میں 7 یہودی باشندوں کو گرفتار کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: شام کی جنگ میں اسرائیل کا چیلنج: کیا بشار الاسد کی کمزور حکومت کی حفاظت کرے یا باغیوں کا نیا خطرہ مول لے؟
گرفتار شدہ افراد کی شناخت
اسرائیلی میڈیا کے مطابق، گرفتار کیے گئے ساتوں اسرائیلی شہریوں کا تعلق حیفہ سے ہے، جن میں ایک فوجی اور دو نابالغ بچے بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں اسکول بس پر دہشت گردوں کا حملہ، شہادتیں، ویڈیو تجزیہ
ایرانی معلومات کی ترسیل
گرفتار ہونے والوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران کے لیے سیکڑوں کام انجام دیے ہیں، جن میں تل ابیب میں کریا ڈیفنس ہیڈکوارٹر، نیواتیم اور رامات ڈیوڈ ایئر بیس کی تصاویر اور معلومات جمع کرنا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں نے جدید ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے بڑا فیصلہ کر لیا
دفاعی مقامات پر حملے
ان افراد سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر ہی نیواتیم ملٹری بیس کو اس سال ایرانی فوج نے دو بار میزائل حملوں میں نشانہ بنایا تھا، اور حزب اللہ کی جانب سے رامات ڈیوڈ کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سی سی ڈی کے ایک دن میں 4مبینہ مقابلے، 6ملزمان ہلاک
اسٹریٹجک مقامات کے نقشے
مشتبہ افراد پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اپنے ہینڈلرز سے اسٹریٹجک مقامات کے نقشے حاصل کیے، جن میں گولانی بیس بھی شامل ہے، جو اس ماہ کے شروع میں ایک مہلک ڈرون حملے میں تباہ ہو گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: شادی ہال پر چھاپہ مارنے والی ایف بی آر کی ٹیم کو ہال کے عملے نے یرغمال بنالیا
تفتیش کے دوران اعتراف
تفتیش کے دوران، ان مشتبہ افراد نے اعتراف کیا کہ وہ دو سال سے ایرانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے مختلف کام انجام دے رہے تھے اور وہ ایرانی ایجنٹوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سرگودھا میں نوسرباز گروہ کا نوجوان کے ساتھ شادی کے نام پر دھوکا، بارات پہنچنے پر گھر سنسان نکلا
مالی مراعات
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیوں کے بدلے میں ایران ان افراد کو کرپٹو کرنسی اور لاکھوں ڈالر ادا کر رہا تھا۔
آئندہ کی قانونی کارروائی
استغاثہ کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز ساتوں مخبروں پر فرد جرم دائر کی جائے گی اور درخواست کی جائے گی کہ انہیں قانونی کارروائی کے اختتام تک حراست میں رکھا جائے۔








