حسینہ واجد: کیا بھارت بنگلہ دیش کی ‘بِن بُلائی مہمان’ کو سیاسی پناہ دینے پر غور کر رہا ہے؟

تقریباً ڈھائی ماہ قبل بنگلہ دیش میں اقتدار سے محروم ہونے کے بعد شیخ حسینہ ایک فوجی طیارے میں دہلی پہنچی تھیں اور اُس کے بعد وہ عوامی سطح پر نظر نہیں آئی ہیں۔
گذشتہ ڈھائی ماہ میں سوشل میڈیا پر بھی اُن کی کوئی نئی تصویر سامنے نہیں آئی۔ اُن کی فون پر ہونے والی گفتگو کے کچھ آڈیوز سامنے آنے کے باوجود اس بات کی تصدیق نہیں کی جاسکتی کہ وہ شیخ حسینہ کی ہی آواز ہے۔
اس دورانیے میں انڈین حکومت کے کسی ترجمان یا وزیر نے بھی اس بارے میں لب کشائی نہیں کی کہ شیخ حسینہ یا اُن کی چھوٹی بہن شیخ ریحانہ دہلی پہنچنے کے بعد کہاں گئیں اور اب کیسی ہیں۔ کسی پریس کانفرنس یا انٹرویو میں بھی اس پر کسی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
تاہم 17 اکتوبر کی شام انڈین حکومت نے رسمی طور پر صرف اتنی تصدیق کی شیخ حسینہ اب بھی انڈیا میں ہی ہیں۔ Uses in Urdu نے گذشتہ ہفتے بتایا تھا کہ شیخ حسینہ کے متحدہ عرب امارات یا مشرق وسطیٰ کے کسی ملک جانے کی خبریں بالکل بے بنیاد ہیں اور اب انڈین حکومت نے بھی باضابطہ طور پر اس کی تصدیق کی ہے۔
یہ درست ہے کہ انڈیا کی مرکزی حکومت نے شیخ حسینہ کے انڈیا میں قیام کے معاملے پر مکمل رازداری برقرار رکھی ہوئی ہے تاہم حکومت یہ بھی واضح نہیں کر رہی کہ انھیں کب تک انڈیا میں رکھا جائے گا۔
اپنی ذاتی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ایک انڈین عہدیدار نے فقط اتنا کہا کہ ’یہ ایک طویل عرصے تک جاری رہنے والا معاملہ ہے۔‘ اُن کے مطابق شیخ حسینہ کو انڈیا میں طویل عرصے تک رہنے کی اجازت دی جائے گی۔
تو جس طرح ماضی میں تبت کے مذہبی رہنما دلائی لامہ اور افغان صدر محمد نجیب اللہ اور اُن کے اہل خانہ کو سیاسی پناہ دی گئی تھی، کیا شیخ حسینہ کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی سوچا جا رہا ہے؟
Uses in Urdu نے اس سوال کا جواب جاننے کے لیے متعدد حکومتی اہلکاروں سے بات کی ہے۔ اس کی بنیاد پر موصولہ جوابات کچھ اس طرح ہیں:
’مہمان ہیں لیکن۔۔۔‘
انڈیا کی نظر میں شیخ حسینہ اس وقت ’مہمان‘ ہیں لیکن مجبوری کے تحت۔ یعنی وہ ملک کی ایک معزز مہمان ہیں جو خاص حالات میں انڈیا آنے پر مجبور ہوئی ہیں۔
انڈین حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ وہ اپنے ملک میں اپنی جان کو لاحق سکیورٹی خدشات کی وجہ سے انڈیا آئی ہیں۔
اب مہمان کی حیثیت سے انھیں زیادہ دیر تک یہاں رکھا جا سکتا ہے۔ انڈین حکومت کے لیے اس میں کوئی خاص پریشانی کی بات بھی نہیں ہے۔ انڈیا کی ایک پرانی دوست اور مہمان کی حیثیت سے انھیں تمام تر عزت و وقار اور سہولیات ملیں گی۔
فی الحال انڈیا کا شیخ حسینہ کو سیاسی پناہ دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ شیخ حسینہ نے خود سیاسی پناہ کی کوئی درخواست نہیں دی ہے۔
لیکن حکومت جانتی ہے کہ اگر مستقبل میں ایسی کوئی تجویز آتی ہے تو تمام سیاسی جماعتیں اس مسئلے پر متفق ہو جائیں گی اور شیخ حسینہ کو سیاسی پناہ دینے کے معاملے پر سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئے گی۔
تاہم فی الحال ایسا لگتا ہے کہ حکومت شیخ حسینہ کو مہمان بنا کر رکھنا چاہتی ہے، لیکن انھیں سیاسی پناہ دینا نہیں چاہتی۔
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی کے سربراہ کو سزا ضرور ہوگی، وفاقی وزیر اطلاعات
کیا یہ صورتحال مستقبل میں بدل سکتی ہے؟
17 اکتوبر کو دہلی میں وزارت خارجہ کی باقاعدہ ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ’آپ سبھی بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم کے انڈیا میں قیام کے بارے میں جانتے ہیں۔ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر انھیں بہت مختصر نوٹس پر یہاں آنا پڑا تھا۔‘
ان کے اس بیان سے واضح ہے کہ شیخ حسینہ اب بھی انڈیا میں ہی ہیں لیکن اس کے باوجود شیخ حسینہ سے متعلق کئی سوالات جواب طلب ہیں۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شیخ حسینہ کی گذشتہ ڈھائی ماہ کی سرگرمیوں کے بارے میں یقینی طور پر کتنا علم ہے اور کن سرگرمیوں کو محض قیاس آرائی یا افواہ قرار دے کر مسترد کیا جا سکتا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ انھیں اس بارے میں معلومات دی گئی ہیں کہ انھیں کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں کہنا چاہیے۔ اس کے ساتھ بات چیت کی بنیاد پر کچھ نوٹس بھی لیے گئے ہیں۔
دہلی میں حال ہی میں اختتام پزیر ہونے والے مذہبی تہوار درگا پوجا کے پنڈال میں بنگالیوں کے درمیان سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ کیا شیخ حسینہ کو اس سیزن میں بنگلہ دیش سے ہلسا مچھلی کھانے کو ملی؟ لیکن ان کے حوالے سے اٹھنے والے بہت سے سوالات کی طرح اس سوال کا جواب بھی سربستہ راز ہے۔
ایک کہاوت ہے ’بن بلایا مہمان‘ یعنی وہ مہمان جو آپ کے گھر بغیر مدعو کیے پہنچ جائے۔ انڈین وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے Uses in Urdu بنگلہ کو بتایا کہ ’شیخ حسینہ کو بغیر بلائے دہلی آنا پڑا ہو گا، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ہماری مہمان ہیں۔‘
ایسے میں انڈیا اپنی مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔
سابق انڈین سفیر اجے بساریہ کا بھی ماننا ہے کہ شیخ حسینہ کو دہلی میں رہنے کی اجازت دینا انڈیا کے لیے بہت حساس مسئلہ ہو سکتا ہے۔ لیکن سچ پوچھیں تو انڈیا کے پاس اُن کو عزت کے ساتھ اس ملک میں رکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔
انڈیا کی سفارتی برادری اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین میں اس بات پر اتفاق ہے کہ بحران کی اس گھڑی میں انڈیا کو شیخ حسینہ کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو مستقبل میں جنوبی ایشیا کا کوئی لیڈر یا کوئی پڑوسی ملک انڈیا کی دوستی پر بھروسہ نہیں کر سکے گا۔
اس پرانی دوستی کی عزت کو برقرار رکھنے کا سب سے قابل احترام طریقہ یہ ہے کہ جب تک ضروری ہو شیخ حسینہ کو انڈیا میں بطور ’قومی مہمان‘ رکھا جائے۔
دہلی میں قائم تھنک ٹینک آئی ڈی ایس اے کی سینئر فیلو سمرتی پٹنائک یاد دلاتی ہیں کہ جب شیخ حسینہ نے سنہ 1975 میں شیخ مجیب کے قتل کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ انڈیا میں پناہ لی تھی تو اُس وقت بھی انھیں تکنیکی طور پر سیاسی پناہ نہیں دی گئی تھی۔ اُس وقت بھی اُن کا قیام خفیہ رکھتے ہوئے انھیں بطور قومی مہمان رکھا گیا تھا۔
اُس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اس فیصلے کو منظوری دے دی تھی۔ اس واقعے کے تقریباً نصف صدی بعد موجودہ نریندر مودی حکومت بھی اسی راستے پر چلنے کا عندیہ دے رہی ہے۔
لیکن حسینہ اور اُن کے خاندان کے قیام کو سنہ 1975 سے 1981 تک تقریباً چھ سال تک میڈیا کی توجہ سے جس طرح دور رکھنا ممکن ہوا، موجودہ دور میں ایسا ممکن نہیں۔
لیکن مہمان نوازی کے کردار میں تبدیلی کے باوجود یہ بھی مہمان نوازی ہے۔ انڈیا کی رائے میں اس سفارتی مسئلے کا سب سے قابل قبول حل یہ ہے کہ شیخ حسینہ کو یہاں مہمان کے طور پر رہنے دیا جائے۔
تاہم بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ شیخ حسینہ کی دہلی میں موجودگی انڈیا اور بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے تعلقات میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
لندن سکول آف اکنامکس کے پروفیسر اور جنوبی ایشیائی سیاست کے مصنف و محقق اویناش پالیوال کا خیال ہے کہ ’اگر شیخ حسینہ انڈیا میں رہتی ہیں تو شاید یہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کوئی معاہدے توڑنے والا فعل نہیں ہو گا، لیکن دو طرفہ سفارتکاری پیچیدہ ہونے والی ہے۔‘
اُن کا کہنا ہے کہ ’جن کے خلاف بنگلہ دیش میں تحریک چلی اور بغاوت ہوئی، اگر انھیں انڈیا میں پناہ مل جائے تو اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں بے چینی پیدا ہو گی اور اس کی علامات ظاہر ہو رہی ہیں۔ موجودہ پیچیدہ صورتحال میں اگر انڈیا عوامی سطح پر کوئی اعلان کرتا ہے اور حسینہ کو سیاسی پناہ دینے کے راستے پر آگے بڑھتا ہے تو اس سے سفارتی انتشار اور بڑھ جائے گا۔‘
انڈیا چاہتا ہے کہ شیخ حسینہ اِسی حالت میں رہیں جس حالت میں وہ اِس وقت ہیں، یعنی ملک کے مہمان کی حیثیت سے وہ جتنے دن چاہیں انڈیا میں رہ سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تنقید کے باوجود کھیلوں میں سعودی عرب کا بڑھتا اثر و رسوخ: 2034 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی میں کامیابی کے عوامل کیا ہیں؟
سیاسی پناہ کے پہلو
اس سب کے باوجود مستقبل میں انڈیا کو شیخ حسینہ کو سیاسی پناہ دینے کے معاملے پر غور کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس سے پہلے انڈیا نے تبت کے دلائی لامہ، مالدیپ کے محمد نشید یا افغانستان کے محمد نجیب اللہ جیسے کئی غیر ملکی لیڈروں کو سیاسی پناہ دی تھی۔
تاہم سیاسی پناہ ملنے کے باوجود نجیب اللہ خود انڈیا نہیں آ سکے تھے لیکن اُن کی بیوی اور بچے کافی عرصے تک دہلی میں مقیم رہے تھے۔
کسی ہائی پروفائل غیر ملکی رہنما کو سیاسی پناہ دینے کی صورت میں اس کا اعلان پارلیمنٹ میں کرنا ہوتا ہے۔ فیصلہ لینے سے پہلے اس مسئلے پر مختلف سیاسی جماعتوں سے بات کی جاتی ہے۔ تاہم ایسا کرنا لازمی نہیں ہے۔
دلائی لامہ کے معاملے میں اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے خود سنہ 1959 میں پارلیمنٹ میں اس فیصلے کا اعلان کیا تھا جبکہ وزیر خارجہ آئی کے گجرال نے پارلیمنٹ میں محمد نجیب اللہ کے خاندان کو سیاسی پناہ دینے کے بارے میں معلومات دی تھیں۔
جب شیخ حسینہ پہلی بار سنہ 1975 اور 1981 کے درمیان انڈیا میں رہیں تو وہ تکنیکی طور پر پناہ گزین نہیں تھیں اور اسی وجہ سے پارلیمنٹ میں اس کے اعلان کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا تھا۔
لیکن اُس وقت وہ شیخ مجیب کی صرف بیٹی تھیں جبکہ اب وہ سابق وزیراعظم ہیں۔ حسینہ واجد آزاد بنگلہ دیش کی تاریخ میں تقریباً 21 سال تک وزیراعظم رہی ہیں۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر ایسی سیاسی شخصیت کو طویل عرصے تک رکھنے کی ضرورت پیش آتی ہے تو مستقبل میں ’پناہ‘ دینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
شیخ حسینہ کو سیاسی پناہ دینے کے معاملے میں ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ انڈیا کی کوئی بھی سیاسی جماعت شاید اس تجویز کی مخالفت نہیں کرے گی۔
حسینہ کے حکمران بی جے پی اور اپوزیشن جماعت کانگریس دونوں کے ساتھ ہی خوشگوار تعلقات ہیں۔ اُن کی نریندر مودی یا گاندھی خاندان کی سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے ساتھ بھی ’ذاتی کیمسٹری‘ ہے۔
دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ساؤتھ ایشین سٹڈیز کے پروفیسر سنجے بھاردواج کہتے ہیں کہ ’ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ انڈیا کے بائیں بازو والوں نے بھی دلائی لامہ کو سیاسی پناہ دینے کے فیصلے کی مخالفت کی تھی۔ وہ اس وقت چین کے بہت قریب تھے۔‘
لیکن یہ تقریباً طے ہے کہ اگر شیخ حسینہ کو سیاسی پناہ دینے کی تجویز آتی ہے تو تمام جماعتیں اس کا خیرمقدم کریں گی کیونکہ انڈیا میں ایک عام اتفاق رائے ہے کہ وہ انڈیا کی آزمودہ دوست ہیں۔
شیخ حسینہ کو سیاسی پناہ دینے کی صورت میں ایک اور سہولت یہ ہو گی کہ صرف اُس بنیاد پر اُن کی حوالگی یا بنگلہ دیش کے حوالے کرنے کے مطالبے کو مسترد کیا جا سکے گا۔ یعنی یہ فیصلہ اُن لوگوں کے خوف سے لیا گیا ہے جنھیں انڈیا نے سیاسی پناہ دی ہے اور وہ اپنے ہی ملک میں سیاسی انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اس لیے انھیں انصاف کے پراسیس سے گزرنے کے لیے اس ملک کے حوالے کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
لیکن اس کا دوسرا تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اگر حسینہ کو انڈیا میں سیاسی پناہ مل گئی تو بنگلہ دیش حکومت کے ساتھ انڈیا کے تعلقات تلخ ہو سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش کی عوام میں انڈیا مخالف جذبات بھڑکائے جا سکتے ہیں۔
اس وقت بنگلہ دیش میں انڈیا کی سرمایہ کاری اور وہاں جاری پروجیکٹس میں اس کے شیئرز سینکڑوں کروڑ روپوں میں ہیں، اس لیے دیکھنا یہ ہے کہ دہلی یہ خطرہ مول لے گا یا نہیں۔
گرفتاری کا وارنٹ
موجودہ پس منظر میں بنگلہ دیش کے بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل (آئی سی ٹی) نے 17 اکتوبر کو ’مفرور‘ شیخ حسینہ کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے بھی کہا ہے کہ وہ اس ہدایت پر عملدرآمد کے لیے فوری اقدامات کرے گی۔
اگر اس وارنٹ کو مقررہ مدت یعنی ایک ماہ کے اندر عمل میں لانا ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بنگلہ دیش حکومت جلد ہی انڈیا سے شیخ حسینہ کو حوالے کرنے کا تحریری مطالبہ کرے گی۔
تاہم جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انڈین حکومت نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے صرف اتنا کہا کہ ’ہم نے بھی ایسی رپورٹیں دیکھی ہیں۔ لیکن فی الحال ہمارے پاس اس معاملے پر کہنے کو کچھ نہیں ہے۔‘
لیکن دہلی کے کئی سابق سفارتکار اور تجزیہ کار پہلے ہی Uses in Urdu بنگلہ کو بتا چکے ہیں کہ ’یہ یقینی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حوالگی کے معاہدے کے تحت اگر شیخ حسینہ کو واپس بھیجنے کی درخواست کی گئی تو انڈیا انھیں کسی بھی حالت میں واپس بھیجنا قبول نہیں کرے گا اور ضرورت کے مطابق ہزاروں دلائل دے کر اس معاملے کو برسوں تک التوا میں رکھے گا۔‘
باضابطہ طور پر سیاسی پناہ دینا ہی حوالگی کی درخواست کو مسترد کرنے کا واحد طریقہ نہیں ہے، اس کے علاوہ اور بھی بہت سے طریقے ہیں۔
سیدھے الفاظ میں شیخ حسینہ کو انڈیا میں بطور ’قومی مہمان‘ رکھ کر بھی حوالگی کی درخواست کو مسترد کرنا ممکن ہے۔
اس وجہ سے دہلی میں مبصرین کا خیال ہے کہ یہ اہم نہیں ہے کہ شیخ حسینہ کو کسی حیثیت سے اور کس بنیاد پر رکھا گیا ہے، اہم بات یہ ہے کہ انڈیا انھیں طویل عرصے تک یہاں رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔
ڈھاکہ میں انڈیا کی سابق ہائی کمشنر ریوا گنگولی داس کہتی ہیں کہ ’بڑی بات یہ نہیں ہے کہ وہ مہمان بن کر رہتی ہیں یا انھیں پناہ ملتی ہے۔ بڑی بات یہ ہے کہ انھیں انڈیا میں مناسب احترام کے ساتھ رکھا جا رہا ہے یا نہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ انگریزی میں کہاوت ہے کہ گلاب تو گلاب ہی رہے گا، یعنی گلاب کو کسی بھی نام سے پکارا جائے، وہ ہمیشہ گلاب ہی رہے گا۔ اسی طرح شیخ حسینہ انڈیا میں پناہ لے رہی ہیں یا نہیں یا مہمان کے طور پر ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ انڈیا کی نظروں میں شیخ حسینہ ہی رہیں گی۔
اس وقت انڈیا میں شیخ حسینہ کے حالات کے بارے میں شاید یہی سب سے بڑا سچ ہے!